خطبات محمود (جلد 24) — Page 201
خطبات محمود 201 $1943 تو ہر چیز کا ایک موسم ہوتا ہے۔جب وہ موسم گزر جائے تو پھر وہ اتنا اثر پیدا نہیں کرتا۔اسی قرآن کریم نے جو اثر حضرت ابو بکر پر کیا، حضرت عمر پر کیا، حضرت عثمان اور حضرت علی پر کیا۔اور اسی طرح ثعبان ثوری، احمد بن حنبل اور امام ابو حنیفہ پر کیا۔جب اس کی اشاعت کا موسم گزر گیا تو قرآن کریم نے بے موسم اگنا بند کر دیا۔یہی قرآن تھا جس کا بیج ان بزرگوں کے دلوں میں لگا اور ایسے پھل دیئے کہ جن کو دیکھ کر عقل محو حیرت ہو جاتی تھی۔اور دوست اور دشمن کو تعجب کا اظہار کرنا پڑتا تھا کہ یہ کیا چیز ہے اور پہلے دنیا میں ایسی چیز کہاں میسر آتی تھی۔مگر اب وہی چیز لوگوں کو بے معنی نظر آتی ہے، بے مغز نظر آتی ہے اور صرف اس لئے رہ گیا ہے کہ غلافوں میں بند پڑا ر ہے۔مسجدوں میں رکھا جائے اور ریشم کے غلافوں میں لپیٹا جائے۔اب کان اس کو سننے کی بھی کوشش نہیں کرتے اور اگر سنتے ہیں تو خیالات اس کے آگے ایک دیوار بن کر حائل ہو جاتے ہیں اور جن خیالات کو سوچتے ہوئے لوگ مسجد میں آتے ہیں اسی دُھن میں نکل جاتے ہیں۔ان دل کے خیالات کی وجہ سے باہر سے کان میں پڑنے والی آیتوں پر کوئی کان نہیں دھر تا۔ایسا کیوں ہوا؟ اسی لئے کہ یہ ایک بے موسم کی چیز ہو گیا۔اس کی اشاعت کا موسم گزر گیا۔پس دینی تحریکات کے لئے بھی ایک موسم ہوتا ہے۔خدا کا نبی جب دنیا میں آتا ہے تو وہ موسم دین کے پھیلنے کا ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کے نشان لوگوں پر اثر کرتے ہیں۔عقلی دلیلیں نتیجہ خیز ہوتی ہیں اور عظیم الشان تغیرات پیدا ہو جاتے ہیں لیکن جب وہ موسم گزر جاتا ہے تو پھر وہ تعلیم لوگوں کے دلوں میں کوئی اثر نہیں کرتی۔جس طرح نومبر یا اکتوبر میں ہوئی ہوئی گندم پھل دے جاتی ہے اور جون اور مئی میں ہوئی ہوئی گندم کوئی پھل نہیں دیتی۔مثلاً موسم میں اگر کسی جگہ سے دس یا بیس من نکلنی ہوتی ہے تو دوسرے موسم میں بونے سے فائدہ تو الگ رہا بیج بھی واپس نہیں آتا۔اسی طرح الہی تحریکات کے پھیلنے کا موسم جب گزر جاتا ہے تو جد وجہد جو اس کی اشاعت میں کی جاتی ہے وہ فضول ضائع جاتی ہے۔آنحضرت صلی علی نام کا زمانہ ایک ایسا زمانہ تھا کہ جس کی تاریخ محفوظ ہے۔ایسا نہ تھا جس طرح حضرت زرتشت یارا مچندر کا زمانہ تھا کہ ان کے زمانوں کی تاریخ محفوظ نہیں۔یعنی آنحضرت صلی ایم کی ایک ایک حرکت