خطبات محمود (جلد 24) — Page 169
خطبات محمود 169 $1943 بڑے بڑے معارف اپنے فضل سے کھولے ہیں مگر بیسیوں مواقع مجھ پر ایسے آئے ہیں جبکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی نکتہ مجھ پر کھولا گیا تو میرے دل میں اس وقت بڑی تمنا اور آرزویہ پیدا ہوئی کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یا حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے زمانہ میں یہ نکتہ مجھ پر کھلتا تو میں ان کے سامنے پیش کرتا اور مجھے ان کی خوشنودی حاصل ہوتی۔اصل مقام تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہی ہے۔حضرت خلیفہ اول کا خیال مجھے اس لئے آیا کرتا ہے کہ انہوں نے مجھے قرآن شریف پڑھایا اور انہیں مجھ سے بے حد محبت تھی اور ان کی یہ خواہش ہوا کرتی تھی کہ میں قرآن پر غور کروں اور اس کے مطالب نکالوں۔تو یہ چیزیں جو ہیں ہمارے لئے حقیقی راحت کا موجب نہیں ہو سکتیں بلکہ اگر ہمارے عشق وابستہ ہیں بعض ایسی ہستیوں سے جو اب دنیا میں موجود نہیں تو یہ نعمتیں بجائے راحت کے ہمارے لئے تکلیف کا موجب ہو جاتی ہیں۔جب بھی جلسہ ہوتا ہے اور لوگ دور دور سے جمع ہوتے ہیں میرے قلب پر اس وقت رقت طاری ہو جاتی ہے اس خیال سے کہ سلسلہ کی یہ عظمت اور یہ شان اور اس کی یہ ترقی ہم لوگ جن کا اس ترقی میں کوئی بھی ہاتھ نہیں وہ تو دیکھ رہے ہیں مگر وہ شخص جس کے ذریعہ سے یہ سب کام ہوا اور جس نے اس کی خاطر سب دنیا سے تکلیفیں سہیں وہ انہیں نہیں دیکھ رہا۔تو سچی بات یہ ہے کہ محبت اور عشق کے ہوتے ہوئے یہ چیزیں کہ کہیں تعیش کے سامان ہیں، کہیں دنیوی سلمانوں کی بہتات ہے انسان کے لئے راحت کا موجب نہیں ہو سکتیں اور اس وجہ سے ان کا چھوڑنا بھی انسان کے لئے زیادہ تکلیف کا موجب نہیں ہو سکتا۔پس ہم اگر ان چیزوں کو چھوڑ دیں تو ہمارے لئے ان کا چھوڑنا ذرہ بھی تکلیف کا موجب نہیں ہو سکتا لیکن اگر ہم ان کو چھوڑ دیں تو دنیا کے لئے جنت کی کیفیت پیدا کرنے میں ممد ہو سکتے ہیں۔آخر یہ غربتیں اور تکلیفیں اسی وجہ سے ہیں کہ کچھ لوگ زیادہ عیاشی میں مبتلا ہوتے ہیں اور وہ کروڑوں من غلہ اور کروڑوں متن انگور شرابوں کے بنانے میں صرف کر دیتے ہیں۔اگر وہ لوگ بھی پانی پر کفایت کرتے تو کروڑوں من غلہ اور انگور لوگوں کے پیٹوں میں جاتا اور اس طرح ان کو ایک مقوی غذا بھی ملتی۔ان کے دل کو بھی طاقت حاصل ہوتی اور ان کے دماغ کو بھی تروو تازگی حاصل ہوتی مگر انہوں نے ایک ایسی ضرورت پیدا کر لی ہے جو حقیقی ضرورت نہیں اور اس کی