خطبات محمود (جلد 24) — Page 170
$1943 170 خطبات محمود وجہ سے وہ دنیا کے ایک معتد بہ حصہ کو غلہ سے اور پھلوں سے محروم کر رہے ہیں ورنہ وہی غلہ اور وہی پھل کروڑوں لوگوں کی صحت اور ان کی راحت کا موجب ہو تا۔یہی حال باقی اشیاء کا ہے۔جتنا جتنا انسان زیادہ تکلفات اختیار کرتا ہے اتنا اتنا خود اس کی زندگی قربانی سے محروم ہوتی جاتی ہے اور دوسرے انسانوں کو بلا وجہ اس کے لئے قربانی کرنی پڑتی ہے۔اس میں کیا شبہ ہے کہ جس کے پاس زیادہ روپیہ ہوتا ہے وہ اپنے روپیہ کے زور سے دوسروں کا حق چھیننے کی کوشش کیا کرتا ہے مثلاً گندم اور چاول ہیں یہ عام ملنے والی چیزیں ہیں لیکن اگر کوئی شخص ایک سیر گندم کو ایک چھٹانک نشاستہ کی شکل میں تبدیل کر دیتا ہے اور وہ نشاستہ اپنے استعمال میں لاتا ہے یا کسی اور طرز پر اس کی کمیت کو کم کر دیتا ہے تو دوسرے الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس نے 15 چھٹانک غلہ سے دنیا کو محروم کر دیا۔اسی طرح وہ شخص جس نے ایک سیر جو کی شراب بنا کر ایک گلاس پی لیا اس نے ایک آدمی کو صبح اور شام کے کھانے سے محروم کر دیا۔پس تحریک جدید در حقیقت اسلام کے احیاء کا نام ہے۔جدید وہ صرف ان معنوں میں ہے کہ دنیا اس سے ناواقف ہو گئی تھی ورنہ در حقیقت وہ تحریک قدیم ہی ہے۔میں ایک دفعہ ایک دعوت میں شامل ہوا جو ایک انگریز افسر کے اعزاز میں دی گئی تھی۔میں عموماً ایسی دعوتوں میں نہیں جایا کرتا مگر لوگوں نے مجھے مجبور کیا کہ میں اس دعوت میں ضرور شریک ہوں۔میں نے کہا میں نہیں جاتا کیونکہ عموماً ایسی دعوتوں میں عورتیں بھی شامل ہوتی ہیں اور انگریز عورتیں مصافحہ کرنے کی کوشش کیا کرتی ہیں اور میں چونکہ اسلامی تعلیم کے ماتحت عورتوں سے مصافحہ کرنا نا جائز سمجھتا ہوں اس لئے انہیں تکلیف محسوس ہوتی ہے اور وہ اس بات میں اپنی ہتک محسوس کرتی ہیں مگر لوگوں نے کہا کہ آپ ضرور چلیں۔ہم آپ کو الگ بٹھا دیں گے۔خیر میں چلا گیا۔یہ دعوت ایک جرنیل کی تھی۔جب اس جرنیل کو معلوم ہوا کہ میں بھی وہاں آیا ہوا ہوں تو وہ بڑے شوق سے مجھ سے ملنے کے لئے آیا اور اپنے ساتھ اپنی بیوی کو بھی لے آیا۔آتے ہی اس کی عورت نے مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا اور میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اس سے طبعی طور پر اسے تکلیف ہوئی کیونکہ انگریز عور تیں اسے اپنی بڑی ہتک سمجھتی ہیں اس کے خاوند کو بھی تکلیف ہوئی اور اس نے مجھے کہا کہ میں تو آپ کی جماعت کے