خطبات محمود (جلد 24) — Page 168
$1943 168 خطبات محمود اس طرح تڑپنا شروع کر دیا جس طرح ذبح کیا ہوا بکر اتر پتا ہے۔میری عمر اس وقت چھوٹی تھی۔انیس سال عمر تھی۔میں انہیں اس حالت میں دیکھ کر گھبر اگیا کہ نہ معلوم انہیں کیا ہو گیا ہے۔مگر میں چپکا کھڑا رہا اور وہ روتے رہے، روتے رہے اور روتے رہے۔کئی منٹ رونے کے بعد جب وہ اپنے نفس کو قابو کر سکے یعنی اتنا قابو کہ ان کے گلے میں سے آواز نکل سکے تو نہایت ہی کرب اور اندوہ سے انہوں نے مجھے کہا کہ میری بد قسمتی دیکھو کہ ساری عمر میرے دل میں یہ خواہش رہی کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے سونا تحفہ کے طور پر پیش کروں مگر اس کی توفیق نہ ملی۔مگر اب جو میں سونا پیش کرنے کے قابل ہوا تو وہ اس دنیا میں نہیں ہیں۔یہ کہہ کر ان پر پھر وہی حالت طاری ہو گئی اور ذبح کئے ہوئے بکرے کی طرح تڑپنے لگے اور میں جو اب ان کے جذبات سے واقف ہو چکا تھا اپنے جذبات کو بصد مشکل دبا کر ان کے سامنے کھڑا رہا۔تو اگر واقع میں دنیا کی یہ نعمتیں کوئی نعمتیں ہیں اور اگر واقع میں ان سے ہمیں کوئی حقیقی آرام پہنچ سکتا ہے تو ایک مومن کا دل ان کو استعمال کرتے وقت ضرور دکھتا ہے کہ اگر یہ نعمتیں ہیں تو پھر یہ اس قابل تھیں کہ رسول کریم صلی لی ایم کو ملتیں۔اور پھر آپ کے بعد آپ کے ظل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ملتیں۔میں چھوٹا ہی تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں مجھے شکار کا شوق پیدا ہو گیا۔ایک ہوائی بندوق میرے پاس تھی جس سے میں شکار مار کر گھر لایا کر تا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام چونکہ کھانا کم کھایا کرتے تھے اور آپ کو دماغی کام زیادہ کرنا پڑتا تھا اور میں نے خود آپ سے یا کسی اور طبیب سے یہ سنا ہوا تھا کہ شکار کا گوشت دماغی کام کرنے والوں کے لئے مفید ہوتا ہے اس لئے میں ہمیشہ شکار آپ کی خدمت میں پیش کر دیا کرتا تھا۔مجھے یاد ہی نہیں کہ اس زمانہ میں میں نے خود کبھی شکار کا گوشت اپنے لئے پکوایا ہو۔ہمیشہ میں شکار مار کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دے دیا کرتا تھا۔تو جب انسان کو اپنے محبوب سے محبت کامل ہوتی ہے تو پھر یا تو وہ کسی چیز کو راحت ہی نہیں سمجھتا اور یا اگر راحت سمجھتا ہے تو کہتا ہے یہ اس کے محبوب کا حق ہے۔اللہ تعالیٰ نے مجھ پر قرآن علوم کے