خطبات محمود (جلد 23) — Page 47
* 1942 47 خطبات محمود سة دریافت کیا کہ بھائی رسول کریم صلی املی کام کا کیا حال ہے؟ وہ چونکہ آپ کو دیکھ کر آیا تھا اور جانتا تھا کہ آپ بخیریت ہیں اور اس وجہ سے اس کا دل مطمئن تھا۔اس لئے اس عورت کے سوال کی طرف تو دھیان نہ دیا اور کہا کہ بہن بڑا افسوس ہے تمہارا باپ جنگ میں مارا گیا۔اس عورت نے کہا کہ میں نے تو باپ کا نہیں پوچھا۔میں نے تو رسول کریم صلی ایم کے متعلق دریافت کیا ہے مگر اس کا دل چونکہ مطمئن تھا اس نے پھر اس عورت کے سوال پر توجہ نہ دی اور کہا کہ افسوس ہے تمہارا بھائی بھی مارا گیا۔اس نے کہا کہ تم مجھے یہ بتاؤ کہ رسول کریم صلی اینم کا کیا حال ہے۔مگر وہ چونکہ جانتا تھا کہ آپ خیریت سے ہیں اس لئے پھر کہا کہ تمہارا خاوند بھی شہید ہو گیا۔مگر اس عورت نے پھر کہا کہ تم مجھے رسول کریم صلی الی ریم کے متعلق بتاؤ میں کچھ اور نہیں پوچھتی۔اس نے کہا کہ وہ تو خیریت سے ہیں۔یہ سن کر اس عورت نے کہا کہ بس پھر مجھے کسی کے مرنے کی کوئی پرواہ نہیں۔اگر رسول کریم صلی اللہ ہم زندہ ہیں تو ہر چیز میرے لئے زندہ ہے۔2 دیکھو کس طرح ایک عورت کے لئے اس کے بھائی، باپ اور خاوند پیارے ہوتے ہیں لیکن وہ سارے کے سارے مارے جاتے ہیں مگر اسے یہ بھی سمجھ نہیں آتی کہ وہ صحابی اس کے سوال کا جواب کیوں نہیں دیتا۔یہ محبت تھی جو خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی ال نیم کے متعلق ان لوگوں کے دلوں میں پیدا کر دی تھی مگر باوجود اس کے وہ خدا تعالیٰ کو ہر چیز پر مقدم رکھتے تھے اور یہی توحید تھی جس نے ان کو دنیا میں ہر جگہ غالب کر دیا تھا۔خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں وہ نہ ماں باپ کی پرواہ کرتے تھے اور نہ بہن بھائیوں کی اور نہ بیویوں اور خاوندوں کی۔ان کے سامنے ایک ہی چیز تھی اور وہ یہ کہ ان کا خدا ان سے راضی ہو جائے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فرما دیا۔انہوں نے اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر مقدم کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو مقدم کیا۔مگر بعد میں مسلمانوں کی یہ حالت نہ رہی اور اب اگر ان کا اللہ تعالیٰ سے تعلق ہے تو محض دماغی ہے، دل کا نہیں۔رسول کریم صلی ال نیم کا ذکر اگر ان کے سامنے کیا جائے تو ان کے دلوں میں محبت کی تاریں ملنے لگتی ہیں۔رسول کریم صلی علیم کے عزیزوں کے ذکر پر بھی یہ تاریں ملتی ہیں۔ابھی محرم گزرا ہے۔شیعہ تو اس پر امام حسین کا ماتم کرتے ہیں اور سنی بھی ان کے