خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 46

* 1942 46 خطبات محمود حالت میں بھی انہوں نے یہ پیغام نہیں دیا کہ میری بیوی کو سلام دینا اور اسے کہنا کہ بچوں کی اچھی طرح پرورش کرے یا یہ کہ میری جائداد اس رنگ میں تقسیم ہو یا فلاں فلاں جگہ میر امال ہے وہ لے لیا جائے بلکہ کہا تو یہ کہا کہ میرے بچوں اور بھائیوں کو میری طرف سے یہ پیغام دینا کہ محمد رسول اللہ صلی الی یکم تمہارے پاس خدا تعالیٰ کی قیمتی امانت ہیں۔میں نے جب تک جان میں جان تھی اسے قربان کر کے بھی اس امانت کی حفاظت کی اور اب اپنے عزیز بھائیوں اور بچوں کو میری آخری وقت کی یہ وصیت ہے کہ وہ بھی اپنی جانوں کے ساتھ اس امانت کی حفاظت کریں اور یہ کہہ کر دم تو ڑ دیا۔8 ذرا اس حالت کا نقشہ اپنے ذہنوں میں کھینچو۔تم میں سے ہر ایک نے مرنے والوں کو دیکھا ہو گا۔کسی نے اپنی ماں کو ، کسی نے باپ کو ، کسی نے بھائی بہن کو مرتے دیکھا ہو گا۔ذراوہ نظاره تو یاد کرو کہ کس طرح اپنے عزیزوں کے ہاتھوں میں اور گھروں میں اچھے سے اچھے کھانے پکوا کر اور کھا کر علاج کروا کر اور خدمت کرا کر مرنے والوں کی حالت کیا ہوتی ہے اور کس طرح گھر میں قیامت بپا ہوتی ہے اور مرنے والوں کو سوائے اپنی موت کے کسی دوسری چیز کا خیال تک بھی نہیں ہوتا مگر آنحضرت مئی ایم نے اپنے صحابہ کے دلوں میں ایسا عشق پیدا کر دیا تھا کہ انہیں آپ کے مقابلہ میں کسی اور چیز کی پرواہ ہی نہ تھی۔مگر یہ عشق صرف اس وجہ سے تھا کہ آپ خدا تعالیٰ کے پیارے ہیں۔آپ کے محمد ”ہونے کی وجہ سے یہ عشق نہ تھا بلکہ آپ کے رسول اللہ ہونے کی وجہ سے تھا۔وہ لوگ دراصل خدا تعالیٰ کے عاشق تھے اور چونکہ خداتعالی محمد رسول اللہ صلی العلیم سے پیار کرتا تھا اس لئے آپ کے صحابہ آپ سے پیار کرے تھے اور یہ تو مر دوں کے واقعات ہیں عورتوں کو دیکھ لو۔ان کے دلوں میں بھی آپ کی ذات کے ساتھ کیا محبت اور کیا عشق تھا۔اُحد کی جنگ کا ہی ایک اور واقعہ ہے۔اس جنگ میں مشہور ہو گیا کہ آنحضرت صلی اعلام شہید ہو گئے ہیں۔مدینہ میں یہ خبر پہنچی تو عور تیں اور بچے بھی گھبر ا کر روتے ہوئے شہر سے باہر نکل آئے اور اُحد کی طرف بھاگے۔اُحد مدینہ سے آٹھ نو میل کے فاصلہ پر ہے۔جب وہ ادھر جارہے تھے تو اس وقت مسلمانوں کا لشکر بھی واپس آرہا تھا اور آنحضرت صلی نیلم بھی اس کے ساتھ تھے۔ایک سوار آگے آرہا تھا۔جب وہ ایک عورت کے پاس سے گزرا تو اس نے سة