خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 48

* 1942 48 خطبات محمود ذکر پر جوش میں آجاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے ذکر پر ان کے دلوں میں محبت کی کوئی تار نہیں ملتی حالانکہ انہیں سوچنا چاہئے کہ محمدصلی یکم اگر قیمتی وجود ہیں تو یہ قیمتی وجود ہمیں کس نے دیا۔یہ ہمارے رب نے ہی دیا تھا۔جو شخص موتی کو یاد رکھتا ہے مگر اس کے دینے والے کو بھول جاتا ہے اس سے زیادہ کا فر نعمت اور کون ہو سکتا ہے۔حقیقی ترقی اللہ تعالیٰ کی محبت سے ہی حاصل ہوتی ہے مگر چونکہ مسلمانوں نے خدا تعالیٰ کی محبت کو قومی جذبہ نہ بنایا اس لئے وہ ان میں سرد ہو گئی۔پس میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس جذبہ کو اپنے دلوں میں پیدا کریں۔یہ تمام نیکیوں کی جڑ ہے۔اگر کسی کو جھوٹ کی عادت ہے تو اس لئے کہ خدا تعالیٰ کی محبت اس کے دل میں پوری نہیں۔اگر بد دیانتی ہے تو اسی لئے کہ خدا تعالیٰ کی محبت کامل نہیں۔باقی انبیاء کی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اسی لئے آئے تھے کہ خدا تعالیٰ کی محبت دلوں میں قائم کریں اور جب یہ جذبہ کسی قوم میں پیدا ہو جائے تو سب باتیں خود بخو درو به اصلاح ہو جاتی ہیں۔جس دل میں خدا تعالیٰ کی محبت ہو وہ ایک قیمتی موتی ہوتا ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی بھی قیمتی موتی کو پاخانہ میں نہیں پھینکتا۔اللہ تعالیٰ بھی اس دل کو جس میں اس کی محبت ہو گندگی میں نہیں پھینکتا۔پس اپنے دلوں میں بھی اس جذبہ کو پیدا کرو اور جماعت میں بھی اسے پیدا کرو۔ہماری جماعت کے مبلغ اور واعظ جب بھی موقع ملے خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کی عظمت دلوں میں قائم کریں اور یہ آگ اس طرح ہر دل میں لگی ہوئی ہو کہ تمہیں بھی اور تمہارے گرد و پیش رہنے والوں کو بھی جلاتی رہے۔یہی نقطہ مرکزی ہے ہر مذہب کا اور یہی نقطہ مرکزی ہے خدا تعالیٰ سے آنے والے سب دینوں کا۔جس دین میں خدا تعالیٰ کی محبت نہیں وہ دین مردہ ہے۔جس دل میں خدا تعالیٰ کی محبت نہیں وہ دل مردہ ہے اور جس قوم میں خدا تعالیٰ کی محبت نہیں وہ قوم مردہ ہے۔نہ وہ مذہب کسی کو نجات دلا سکتا ہے جس میں خدا تعالیٰ کی محبت نہیں اور نہ وہ دل نجات پاسکتا ہے جس میں خدا تعالیٰ کی محبت نہیں اور نہ وہ قوم دنیا میں کوئی کام کر سکتی ہے جس قوم میں خدا تعالیٰ کی محبت نہ ہو۔پس خدا تعالیٰ کی محبت دلوں میں پیدا کرو،