خطبات محمود (جلد 23) — Page 555
خطبات محمود 555 * 1942 اس کے بعد میں احباب کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ تحریک جدید کے نئے سال کے متعلق گزشتہ خطبہ میں میں نے جو اعلان کیا تھا۔اس میں بعض باتیں بیان کرنے سے رہ گئی تھیں مثلاً وعدوں کے وقت کی تعیین کے متعلق گزشتہ خطبہ میں کوئی اعلان نہیں کیا جا سکا۔اب اس خطبہ کے ذریعہ میں یہ اعلان کر دینا چاہتا ہوں کہ ہندوستان کے دوستوں کی طرف سے 31 جنوری تک بھیجے ہوئے وعدے قبول کئے جائیں گے مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ دوست 31 جنوری تک وعدے بھیجوانے میں تاخیر سے کام لیں۔یہ صرف لوگوں کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے تاریخ مقرر کی گئی ہے ورنہ دوستوں کو چاہئے کہ جلسہ سالانہ سے پہلے پہلے تحریک جدید کے متعلق اپنے وعدے بھجوا دیں تاکہ آئندہ سال کا پروگرام تیار کرنے میں ہمیں کوئی دقت اور پریشانی پیدا نہ ہو۔اگر وقت کے اندر اندر وعدے آجائیں تو ہمیں اس امر کا اندازہ ہو سکتا ہے کہ آئندہ سال دوستوں کی طرف سے اس قدر رقم آئے گی اور پھر اس رقم کے اندر اپنے اخراجات رکھے جاسکتے ہیں۔اس لئے جہاں تک ہو سکے دوستوں کو 24، 25 دسمبر تک اپنے وعدے بھجوادینے چاہئیں۔یا جلسہ سالانہ پر آئیں تو جماعتوں اور افراد کے وعدوں کی فہرستیں مرتب کر کے اپنے ہمراہ لیتے آئیں۔پھر جو لوگ رہ جائیں گے چونکہ انہیں واپس جانے میں کچھ دیر لگ جاتی ہے اور پھر واپس پہنچ کر انہیں پہلے اپنے کئی کام سنوارے پڑتے ہیں اور پھر دوستوں سے وعدوں کے لئے ملنا ہو تا ہے۔اس لئے ایسے لوگوں کے لئے 31 جنوری کی تاریخ مقرر کی گئی ہے یعنی وہ خطوط جو 31 جنوری کو چلیں گے یا کیم فروری کی ان پر مہر ہو گی۔ان کے وعدوں کو منظور کر لیا جائے گا۔یکم فروری کی مہر کی شرط اس لئے زائد کی گئی ہے کہ ہو سکتا ہے کوئی شخص 31 جنوری کی شام کو خط لکھے اور چونکہ ڈاک اگلے دن ہی نکل سکتی ہے اس لئے خط پر یکم فروری کی مہر لگے گی۔پس جس خط پر یکم فروری کی مہر ہو گی اس کے وعدہ کو بھی میعاد کے اندر سمجھا جائے گا۔اسی طرح بعض جگہ ہفتہ میں صرف ایک دفعہ ڈاک نکلتی ہے۔ایسے مقامات کے متعلق یہ دستور ہو گا کہ وہاں کے جو دوست 31 جنوری کو خط لکھ دیں گے وہ ہمیں خواہ کسی تاریخ کو پہنچیں ہم ان کے وعدہ کو قبول کر لیں گے کیونکہ وہ 31 جنوری کے بعد پہلی ڈاک میں آئے ہوں گے لیکن اس تاریخ کے بعد کوئی وعدہ قبول نہیں