خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 556 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 556

* 1942 556 خطبات محمود کیا جائے گا۔ہاں اگر کوئی شخص اپنے وعدہ میں زیادتی کرنا چاہے تو وہ ہر وقت کر سکتا ہے مثلاً پہلے اس نے دس روپوؤں کا وعدہ کیا تھا پھر وہ پندرہ روپے دینا چاہے تو اسے اختیار ہے کہ جب چاہے اپنے وعدہ میں اضافہ کرلے۔اضافہ کرنے میں کوئی روک نہیں البتہ نیا وعدہ ہندوستان کے کسی دوست کی طرف سے 31 جنوری کے بعد قبول نہیں کیا جائے گا۔سوائے بنگال وغیرہ کے کہ ان کے وعدوں کے لئے اپریل کی آخری تاریخ مقرر ہے اور سوائے باہر کے ممالک کے کہ ان کے وعدوں کی آخری تاریخ 30 جون ہے یا سوائے ان لوگوں کے جو اس وقت بر سر کار نہیں یا غریب ہیں اور دوران سال میں بر سر کار ہو جائیں یا خد اتعالیٰ انہیں مال دے دے۔ان تاریخوں پر تمام دوستوں کو اپنے اپنے وعدے بجھوانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اس کے بعد میں پھر اس امر پر زور دینا چاہتا ہوں کہ جماعت کو چاہئے وہ خصوصیت سے تحریک جدید کے ان آخری سالوں میں زیادہ سے زیادہ قربانی کرے۔میں جانتا ہوں کہ بعض دوست ایسے ہیں جنہوں نے تحریک جدید کے چندہ میں زیادہ سے زیادہ قربانی کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ابھی بہت سے دوست ایسے ہیں جنہوں نے اس رنگ میں نمایاں قربانی نہیں کی۔میں سمجھتا ہوں کہ دوستوں کی ایک ایسی شمار میں آنے والی مقدار ہے جن کے وعدے ان کی آمدنیوں کے مطابق نہیں۔ان دوستوں کو میں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی آمدنیوں کے مطابق یا قربانی کی حد تک وعدے کریں۔اس کے ساتھ ہی میں اس امر کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ ابھی پندرہ بیس ہزار روپیہ کے وعدے سال ہشتم کے وعدوں میں سے پورے ہونے باقی ہیں ان میں سے بعض مہلتیں لے رہے ہیں اور جن کو حقیقی مشکلات در پیش ہیں، انہیں مہلتیں دی جارہی ہیں لیکن باقی دوست جنہوں نے ابھی تک نہ اپنا وعدہ پورا کیا ہے اور نہ چندے کی ادائیگی کے لئے کوئی مہلت لی ہے انہیں میں یہ کہتا ہوں کہ وہ اب نئے سال کے وعدے کی خوشی میں نہ بیٹھ جائیں بلکہ کوشش کریں کہ ان کا گزشتہ سال کا وعدہ جلد سے جلد پورا ہو جائے۔اگر وہ 30 نومبر تک اپنے وعدوں کو پورا نہیں کر سکے تھے تو اب کم سے کم جلسہ سالانہ تک اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے یا زیادہ سے زیادہ 31 جنوری تک اپنے وعدے پورے کر دیں۔اگر وہ گزشتہ سال کے وعدوں کو 31 جنوری تک پورا کر دیں تو سال رواں کے بجٹ پر اچھا اثر پڑے گا