خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 554 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 554

خطبات محمود 554 * 1942 کوئی کہے گا کہ محمد صلی للی کم کی محبوبیت کی شان نہیں پائی جاتی تو ہم اس کی مخالفت کریں گے اور اگر کوئی کہے گا کہ محمد صلی ال یک خدا تعالیٰ کے برابر ہیں تو ہم اس کی مخالفت کریں گے۔ہمارا تعلق تو سب سے محض اللہ کے لئے ہے جدھر اللہ ہو گا ادھر ہم ہوں گے اور جدھر وہ نہیں ہو گا ادھر ہم بھی نہیں ہوں گے۔پس میں جماعت کے تمام دوستوں کو توجہ دلا تاہوں کہ کبھی کوئی ایسا موقع نہ آنے دو جس سے آئندہ نسلیں دھوکا کھا جائیں۔تھوڑے ہی دن ہوئے ایک شخص نے مجھے لکھا کہ قادیان کے متعلق تخت گاہ رسول ” جو کہا جاتا ہے۔یہ غلو سے کام لیا جاتا ہے۔میر امنشاء تھا کہ اسے یہ جواب لکھوں کہ جسے خدا نے تخت گاہ رسول قرار دیا ہے اسے ہم کیوں نہ تخت گاورسول قرار دیں۔اس وقت میرے ذہن میں بھی یہ نہ تھا کہ چند ہی دنوں میں اس طرح عمومیت کے رنگ میں یہ لفظ استعمال کیا جائے گا۔بہر حال موقع اور محل پر ہم ہزار بار نہیں لاکھ بار کہیں گے کہ قادیان خدا کے رسول کا تخت گاہ ہے اور اگر مناسب موقع اور محل پر یہ الفاظ استعمال کئے جائیں تو بالکل جائز اور درست ہوں گے اور ہم ان الفاظ کے استعمال سے کبھی نہیں رکیں گے کہ قادیان خدا کے رسول کا تخت گاہ ہے لیکن ہم قادیان کا یہ نام نہیں رکھیں گے کیونکہ یہ نام صرف مدینہ منورہ کا ہے۔اسی طرح بیت اللہ ہم تمام مسجدوں کو کہتے ہیں اور کہتے چلے جائیں گے مگر جب یہ لفظ نام کے طور پر آئے گا اور بغیر کسی قرینہ کے استعمال کیا جائے گا تو اس وقت اس سے مراد صرف خانہ کعبہ ہو گا اور کوئی مسجد نہیں ہو گی۔اسی طرح خالی رسول اللہ کے الفاظ جب بھی استعمال کئے جائیں گے تو اس سے مراد محض رسول کریم صلی الم ہوں گے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مراد نہیں ہوں گے نہ حضرت موسیٰ یا حضرت عیسیٰ مراد ہوں گے۔خالی رسول اللہ صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ کم ہیں۔پس خالی رسول اللہ کے الفاظ جو بغیر کسی قرینہ کے استعمال کئے جائیں۔ان کا استعمال سوائے محمد علی ایم کے اور کسی کے لئے جائز نہیں۔یہ محمدصلی اللہ نام کامال ہے اور کوئی شخص اس مال کو آپ سے چھین نہیں سکتا۔پس ایک تو یہ نصیحت ہے جو میں کرنا چاہتا ہوں کہ ان باتوں سے احتیاط سے کام لو اور ان الفاظ کی بجاۓ اور الفاظ استعمال کیا کرو تا کہ لوگوں کو دھوکا نہ لگے اور وہ کسی فتنہ میں مبتلا نہ ہو جائیں۔