خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 427

* 1942 427 خطبات محمود لکھی جاسکیں گی مگر مانگتے وقت خیالات اس طرح آتے جاتے تھے جس طرح سوتیاں بنانے والی مشین میں جب پیچھے سے میدہ ڈالا جاتا ہے تو اس میں سے سوئیاں نکلتی چلی آتی ہیں۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ دل کے پیچھے خیالات ڈالے جارہے ہیں اور وہ آگے الفاظ میں منہ سے نکلتے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دن بہت قیمتی ہیں اس لئے ان سے فائدہ اٹھاؤ۔یہ مشق کا موقع ہے اور جسے عادت ہو جائے اس کے لئے ہمیشہ ہی رمضان ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہی سارے ایام بنائے ہیں۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ لوگ پوچھتے ہیں یہ ایام کیسے ہیں۔تو کہہ دے کہ ان میں حج کے بھی دن ہیں اور لوگوں کے لئے فوائد بھی ہیں۔کے پس جو انسان چاہے ، سارے سال کو ہی اپنے لئے رمضان بنا سکتا ہے۔روزہ رکھا اور رات کو اٹھا، دعائیں کیں، ذکر کیا، یہی رمضان ہے۔اندھے سے کسی نے کہا تھا سو جاؤ۔اس نے کہا سونا کیا ہے، چپ ہی ہو جانا ہے۔تو جو شخص رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور روزہ رکھے اس کے لئے رمضان ہی رمضان ہے۔مسلسل روزے رکھنا تو منع ہیں۔ایک دن چھوڑ کر رکھنے جائز ہیں اور اس طرح گویار مضان کے علاوہ 1/2 5 مہینے بنتے ہیں اور جو شخص رمضان کے سوا باقی دنوں سے 1/2 5 ماہ روزے رکھے۔اس کا سارا سال ہی رمضان بن جاتا ہے۔تو رمضان بنانا انسان کے اپنے اختیار کی بات ہے۔رمضان باقی دنوں میں بھی دعاؤں کی تحریک کا ایک ذریعہ ہے اور جسے اللہ تعالیٰ توفیق دے اس کے لئے ہر مہینہ میں رمضان اور ہر رات ہی لَيْلَةُ الْقَذر ہے۔اور پھر رات ہی کی کیا خصوصیت ہے ، انبیاء کے لئے دن بھی لَيْلَةُ القدر ہو جاتے ہیں۔کیا جب کسی نبی نے دعا کرنی ہو تو وہ اس کا انتظار کرتا ہے کہ رمضان آئے تو کروں اور پھر رمضان کا بھی آخری عشرہ اور اس میں سے بھی طاق راتیں اور ان طاق راتوں میں سے بھی لَيْلَةُ الْقَدْر کی خاص رات آئے تو کروں۔رسول کریم صلى ال ل لا طائف میں تبلیغ کے لئے گئے تو لوگوں نے آپ کو گالیاں دیں۔آپ کے پیچھے کتے چھوڑ دیے اور لڑکے پتھر مارنے لگے۔آپ وہاں سے باہر نکلے، دن کا وقت تھا کوئی رات نہ تھی، پھر رمضان بھی نہ تھا اور اس کا آخری عشرہ بھی نہ تھا اور نہ لیله القدر تھی۔دوپہر کا وقت تھا اور لوگ اپنے کام کاج میں مصروف تھے کہ خدا تعالیٰ کا فرشتہ اترا اور اس نے کہا کہ اے محمد (صلی ال مجھے خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اگر تو اجازت دے تو میں اس شہر کو الٹا کر پھینک دوں۔یہ