خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 428

* 1942 428 خطبات محمود کو نسار مضان تھا اور کونسی لَيْلَةُ القدر تھی۔دن کا وقت تھا اور آنحضرت صلی الیم نے دعا بھی نہ کی تھی جیسا کہ آپ کے جواب سے پتہ لگتا ہے۔صرف آپ کی مادی تکلیف ہے کہ زخموں سے خون بہہ رہا تھا، لوگ پتھر مار رہے تھے اور کتے کاٹنے کو دوڑ رہے تھے ، لَيْلَةُ الْقَدْر سے بڑھ گئی اور خدا تعالیٰ نے فرشتہ کو حکم دیا کہ اس شہر کو اسی طرح الٹا دو جس طرح لوط کی بستی الٹادی گئی تھی۔مگر شرط یہ ہے کہ ہمارے رسول سے پوچھ لینا۔جب فرشتہ نے آپ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ نہیں جانے دو۔ان لوگوں نے جو کچھ کیا نادانی سے کیا، ان کو پتہ نہ تھا کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے دعا بھی نہ کی تھی۔اگر کی ہوتی تو آپ یہ جواب نہ دیتے بلکہ یہ کہتے کہ اچھا اللہ تعالیٰ نے میری دعا سن لی ہے۔فوراً اس بستی کو الٹا دو مگر آپ نے فرمایا نہیں جانے دو، ان کو پتہ نہیں تھا۔تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کے بغیر ہی مادی تکلیف کو دعا کا قائم مقام بنالیا۔اس مہینہ کو رمضان، ان دنوں کو اس کا آخری عشرہ اور اس کی طاق راتیں اور ان میں سے بھی لَيْلَةُ الْقَدْر اور لَيْلَةُ الْقَذر کی وہ خاص قبولیتِ دعا کی گھڑی بنا لیا اور پھر جب فیصلہ فرمایا تو فرشتہ کو حکم دیا کہ پہلے ہمارے رسول سے پوچھ لو ، وہ کہے تو اس بستی کو الٹا دو۔تو مومن کا تعلق جب اپنے اللہ سے اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ وہ اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہے تو اس کے لئے سارے مہینے ہی رمضان بن جاتے ہیں اور ساری راتیں ہی رمضان کا آخری عشرہ اور اس میں سے بھی طاق راتیں اور طاق راتوں میں سے بھی لَيْلَةُ الْقَدْر بن جاتی ہیں۔مگر یہ بات پیدا کرنا بندے کے ہاتھ میں ہے۔اگر وہ خدا تعالیٰ سے سچے طور پر عاشقانہ تعلق پیدا کر لے اور عاشقانہ رنگ اختیار کرلے۔تو یہ مقام یا اس کا کچھ حصہ حاصل ہو سکتا ہے لیکن اگر وہ اللہ تعالیٰ سے سودا کرنا چاہے تو وہ بہ کا ہوا ہے اور ایک ایسے گڑھے کی طرف جا رہا ہے جس کا نتیجہ ہلاکت ہے۔اس کی نمازیں اور اس کے روزے اور اس کی دوسری عباد تیں اسے اس ہلاکت سے روک نہ سکیں گی اور ہم اس کے متعلق یہی کہیں گے کہ وہ بہکا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے وہ اس کے رحم کا محتاج ہے۔“ خطبہ ثانی میں فرمایا:۔و میں عورتوں کے متعلق بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں۔عورتیں کمزور مخلوق ہیں اور انہیں