خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 426

* 1942 426 خطبات محمود مگر اسی ذریعہ سے جو میں نے بتایا ہے۔یہ ذریعہ ہے جو انسان کو ظاہری باتوں سے آزاد کر دیتا ہے۔میری اپنی مثال ہے آج صبح سحری کے وقت جب میں اٹھا تو شدید انفلوئنزا کا دورہ تھا۔سر میں شدید درد تھا اور گلے میں سخت خراش تھی۔میں نے دوائیاں وغیرہ منگوا کر استعمال کیں اور کہا کہ روزہ میں رکھ لیتا ہوں۔اگر صبح تک صحت نہ ہوئی تو چھوڑ دوں گا چنانچہ میں نے روزہ رکھ لیا مگر جو دوائیاں صبح استعمال کی تھیں وہ چونکہ ضعف پیدا کرتی ہیں اس لئے دو بجے کے قریب مجھے ایسا ضعف ہوا کہ میں نے سمجھا میں جمعہ کی نماز کے لئے نہیں جاسکتا۔جمعہ کے روز غسل کرنا سنت ہے اور جب میں غسل کی نیت سے اٹھا تو غسل خانہ کے پاس پہنچنے کے بعد میرے نفس نے مجھے واپس لوٹا دیا اور کہا کہ آج غسل نہیں کرنا چاہئے۔چنانچہ میں نے بغیر غسل کے ہی کپڑے پہن لئے اور میں اسی فکر میں تھا کہ کہہ دوں کہ میں جمعہ کے لئے نہیں آسکتا مگر پھر خیال کیا کہ چلا جاتا ہوں۔دو چار باتیں کہہ کر خطبہ ختم کر دوں گا مگر یہاں آکر اللہ تعالیٰ کی محبت کا ذکر جو آ گیا تو مجھے پتہ بھی نہیں لگا کہ کتنا بول گیا ہوں اور شاید اتنا ہی بیان کر گیا ہوں جتنا عام طور پر کیا کرتا ہوں۔ایک دوست ہیں جو اب تو احمدی ہیں مگر پہلے جماعت میں شامل نہ تھے لیکن جلسہ پر آیا کرتے تھے۔انہوں نے ایک دفعہ کہا کہ دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہے یا تو آپ بڑے جھوٹے ہیں اور یا پھر کوئی غیر معمولی ہستی ہیں۔میں نے کہا یہ کیا بات ہے۔تو انہوں نے کہا کہ میں کئی سال سے جلسہ پر آتا ہوں، ہمیشہ دیکھتا ہوں کہ آپ بیمار ہیں ، فلاں تکلیف ہے، فلاں تکلیف ہے مگر جب تقریر کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو چھ چھ گھنٹے مسلسل بولتے چلے جاتے ہیں۔دو ہی صورتیں ہیں یا تو آپ جھوٹ بولتے ہیں کہ بیمار ہیں اور یا پھر آدمی نہیں۔میں نے کہا دونوں باتیں نہیں۔نہ تو میں جھوٹ بولتا ہوں اور نہ ہی یہ کہ میں آدمی نہیں ہوں۔بات یہ ہے کہ میں جب بولنے لگتا ہوں تو اللہ تعالیٰ کا ایک ایسا تصرف ہوتا ہے کہ بیماری کا خیال بھی نہیں رہتا۔تو اللہ تعالیٰ کا تعلق انسان کے دل سے احساس کو مٹادیتا ہے اور تمام محسوسات سے آزاد کر دیتا ہے۔اِلَّا اَنْ يَّشَاءَ اللہ۔میں نے اس رمضان کی آٹھویں تاریخ کو دعائیں کرنے کا ذکر کیا ہے۔صبح مجھے خیال آیا کہ ان دعاؤں کو لکھ لوں مگر جب لکھنے لگا تو وہ اس طرح ذہن سے پھسلتی جاتی تھیں کہ معلوم ہو تا تھا آخر تک صرف چند سطریں ہی