خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 363

* 1942 363 خطبات محمود حکومت رستہ دے اور مبلغوں کو اپنے ملک میں داخل ہونے دے یا انہیں داخل نہ ہونے دے اور ان سب کو اپنے حکم سے مروا ڈالے۔اور یہ دونوں باتیں ایسی ہیں جو قربانیوں کا مطالبہ کرتی ہیں۔اگر حکومت رستہ دے گی تو تم تبلیغ میں کامیاب ہو جاؤ گے اور اگر حکومت تمہیں مارے گی تو تم خون کی ندی میں بہہ کر اپنی منزل مقصود کو پہنچو گے۔پس یہ مت خیال کرو کہ مبلغوں کے لئے قربانیاں نہیں ہو تیں۔وہ تبلیغ جو ملکوں کو ہلا دیتی ہے ابھی تک ہم نے شروع ہی نہیں کی۔لیکن اب اس جنگ کے بعد غالباً زیادہ انتظار نہیں کیا جائے گا اور تمہیں ان قربانیوں کے لئے اپنے گھروں سے باہر نکلنا پڑے گا مگر تم میں سے کتنے ہیں جو یہ قربانیاں کر سکتے ہیں۔کیا تم سمجھتے ہو کہ سلسلہ کا خزانہ ان سب کے اخراجات برداشت کرے گا اور اگر دو چار لاکھ آدمی ہماری جماعت میں سے نکل کھڑے ہوں تو سلسلہ کے خزانہ سے ان کو مدد دی جائے گی۔سلسلہ کا خزانہ تو ان کے دسویں، سویں، ہزارویں بلکہ دس ہزارویں حصہ کو خالی روٹی بھی مہیا نہیں کر سکتا کجا یہ کہ ان کے دوسرے اخراجات برداشت کرے۔تب کیا ہو گا۔یہی ہو گا کہ تمہیں کہا جائے گا تم کچکول ہاتھ میں لے کر نکل کھڑے ہو اور فیصلہ کر لو کہ جب تک اس ملک کی تبلیغ کا راستہ نہیں کھلتا تم واپس نہیں آؤ گے۔جو لوگ آج قربانیوں کے دعوے کرتے ہیں کیا وہ سمجھتے ہیں کہ کل اگر اُن سے اسی رنگ میں قربانیوں کا مطالبہ کیا گیا تو وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے نکل کھڑے ہوں گے۔میں سمجھتا ہوں قربانیوں کا دعویٰ کرنا آسان ہوتا ہے اور شاید اگر موت کا سوال ہو تا تو ہم میں سے ہر شخص اپنی جان دینے کے لئے آگے آجاتالیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس بات کے لئے تیار ہیں کہ اگر انہیں سلسلہ کی طرف سے تبلیغ کے لئے غیر ممالک میں نکل جانے کا حکم ملے تو وہ گھر میں آئیں، سوٹی ہاتھ میں پکڑیں اور اپنی بیوی سے کہیں، یہ سب گھر کی چیزیں تمہارے پاس ہیں، تم چکی پیسو اور اپنا اور اپنے بچوں کا گزارہ کرو، میں امریکہ یا جر منی یاروس جارہا ہوں کیونکہ وہاں کی حکومت نے ہمارے مبلغ کو نکال دیا ہے۔اسی طرح ہر احمدی اپنے اپنے گھر کے دروازے بند کر کے اور سوئی ہاتھ میں لے کر نکل کھڑا ہو اور اس کے دل میں ذرا بھی یہ احساس نہ ہو کہ اس کی بیوی اور بچوں کا کیا بنے گا اور وہ کس طرح گزارہ کریں گے۔اگر یہ زمانہ آجائے