خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 362

* 1942 362 خطبات محمود اس کے ان کی گردنیں کاٹی گئیں اور سینکڑوں سال تک کائی گئیں۔اسی طرح جب ہم بھی صحیح معنوں میں تبلیغ کریں گے تو دنیا اس بات پر مجبور ہو گی کہ ہماری گردنوں کو کاٹے۔ابھی تک تو ہم نے تبلیغ کو اس رنگ میں جاری ہی نہیں کیا کہ ہماری جماعت کے آدمیوں کی گردنیں کاٹی جائیں۔تمہارا مبلغ امریکہ میں گیا اور اسے وہاں کی حکومت نے نکال دیا۔مگر تم نے کیا کیا ؟ تم إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھ کر بیٹھ گئے۔مگر جب حقیقی تبلیغ کا وقت آئے گا اُس وقت یہ طریق اختیار نہیں کیا جائے گا۔فرض کرو تمہارا مبلغ امریکہ میں جاتا ہے اور اسے وہاں کی حکومت نکال دیتی ہے تو اس وقت یہ نہیں ہو گا کہ تم خاموشی سے گھروں میں بیٹھ رہو بلکہ تمہارا دوسر ا مبلغ اس جگہ جائے گا۔اس کو نکال دیا جائے گاتو تیسر ا مبلغ جائے گا، اس کو نکال دیا جائے گا تو چوتھا مبلغ جائے گا۔اسی طرح ایک کے بعد دوسرے اور دوسرے کے بعد تیسرے اور تیسرے کے بعد چوتھے شخص کو وہاں جانا پڑے گا اور جب اس طرح بھی کوئی اثر نہیں ہو گا تو ہزاروں شخصوں سے کہا جائے گا کہ وہ اپنے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوں اور خواہ انہیں بھوکا رہنا پڑے، خواہ پیاس کی تکلیف برداشت کرنی پڑے، خواہ پیدل سفر کرنا پڑے وہ جائیں اور اس ملک میں داخل ہو کر تبلیغ کریں۔جس ملک میں داخل ہونے سے حکومت نے روک رکھا ہے۔ایسی صورت میں کیا تم سمجھتے ہو امریکہ والے تمہیں قتل نہیں کریں گے۔وہ ہر اس شخص کو جو اُن کے ہاتھ آئے گا قتل کریں گے اور کوشش کریں گے کہ ان کے ملک میں ہمارا کوئی مبلغ داخل نہ ہو لیکن اس کے باوجو د جو مبلغ داخل ہونے میں کامیاب ہو جائے گا وہ ایسی شان کا مبلغ ہو گا کہ امریکہ کے لوگ خود بخود اس کی باتیں سننے پر مجبور ہوں گے۔مگر اب تو یہ ہوتا ہے کہ سیکنڈ یا تھرڈ کلاس میں ایک شخص سفر کرتا ہوا جاتا ہے اسے ہر قسم کی سہولتیں میسر ہوتی ہیں اور وہ کسی غیر ملک میں جا کر تبلیغ کرنے لگ جاتا ہے۔ایسا شخص مبلغ نہیں سیاح ہے۔مبلغ قومیں وہی ہیں کہ جب حکومتیں انہیں اپنے ملک میں داخل ہونے سے روکتی ہیں تو وہ خاموش نہیں بیٹھ جاتیں بلکہ اپنی تجارت، اپنی زراعت، اپنی ملازمت اور اپنے گھر بار کو چھوڑ کر نکل کھڑی ہوتی ہیں اور ان میں سے ہر شخص یہ تہیہ کئے ہوئے ہوتا ہے کہ اب میں اس ملک میں داخل ہو کر رہوں گا اور تبلیغ کروں گا۔ایسی صورت میں دو ہی باتیں ہو سکتی ہیں یا تو