خطبات محمود (جلد 23) — Page 356
خطبات محمود 356 * 1942 چاہے اس کے نتیجہ میں وہ خود بھی ہلاک اور برباد ہو جائیں۔آخر جو لوگ اپنے دشمنوں کو قتل کرتے ہیں وہ یہ جانتے ہوئے ہی قتل کرتے ہیں کہ گورنمنٹ انہیں پھانسی دے دے گی مگر اس کے باوجود وہ اپنے فعل سے باز نہیں آتے کیونکہ وہ جانتے ہیں، گو ہم مر جائیں گے مگر مرنے سے پہلے ہم اپنا بدلہ لے لیں گے۔یہ ذہنیت ممکن ہے کہ گاندھی جی کی نہ ہو ، گو میں یہ خیال نہیں کر سکتا کہ نہ ہو۔ممکن ہے یہ ذہنیت گاندھی جی کے قریبیوں کی نہ ہو گو میں خیال نہیں کر سکتا کہ نہ ہو کیونکہ انہوں نے فیصلہ ایسا کیا ہے جو اس نتیجہ پر ہر شخص کو پہنچنے پر مجبور کرتا ہے۔لیکن اگر گاندھی جی اور ان کے چند قریبیوں کی یہ ذہنیت نہ ہو تب بھی کانگرس کی اکثریت کی ذہنیت اس وقت یہی ہے کہ تیس سے چالیس کروڑ کی آبادی رکھنے والے ملک پر ایک چھوٹے سے ملک کے لوگوں نے جس کی آبادی چار کروڑ کے قریب ہے قبضہ کیا اور اس کی دولت، تجارت اور زراعت سے اس نے فائدہ اٹھایا۔لوگوں نے تمام تکالیف کو برداشت کیا اور حکومت سے منتیں کیں کہ وہ انہیں حقوق دے۔اس نے حقوق دینے کے متعلق کئی وعدے کئے مگر پھر ان کو پورا نہ کیا۔وہ ایک لمبے عرصہ تک جو سو سال کے قریب ہے حکومت پر آس لگائے بیٹھے رہے اور انہوں نے سمجھا کہ ان کی امیدیں کسی دن بر آئیں گی اور وہ بھی اپنی آنکھوں سے ہندوستان کو آزاد ممالک کی صف میں کھڑا ہو تا ہوادیکھیں گے۔مگر وقت گزرتا چلا گیا اور حکومت نے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی طرف پوری توجہ نہ کی۔آخر جب ان کی امید نا امیدی میں بدل گئی، ان کی خوشی رنج میں تبدیل ہو گئی، ان کے ولولے ان کے دلوں میں ہی رہے اور ان کی آرزوئیں پوری ہونے میں نہ آئیں اور انہوں نے دیکھا کہ انگریز اس وقت ایک سخت مصیبت میں مبتلا ہیں تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب ہماری خوشی اپنی حکومت میں نہیں بلکہ ہماری خوشی اپنے حاکم انگریزوں کو محکوم دیکھنے میں ہے۔اس ذہنیت کے ماتحت کس طرح کوئی خیال کر سکتا ہے کہ آئندہ ہندوستان کی اکثریت والی قوم یعنی ہندوؤں اور انگریزوں میں کبھی صلح ہو سکتی ہے۔مان لیا کہ انگریز سختی سے اس تحریک کو وقتی طور پر دبا سکتے ہیں مگر اس طرح قلوب کی آگ تو بجھ نہیں سکتی۔آئر لینڈ میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔آئر لینڈ کتنا چھوٹا سا ملک ہے مگر وہاں کے لوگوں نے اپنے حقوق کے متعلق جد وجہد کی۔جب ان کے