خطبات محمود (جلد 23) — Page 268
$1942 268 (21) خطبات محمود جماعت احمدیہ موجودہ جنگ کو خدا تعالیٰ کی تقدیر کا ایک مظاہرہ سمجھے اور اس موقع کو غنیمت سمجھ کر فنونِ جنگ سیکھے (فرمودہ 10 جولائی 1942ء) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔”دنیا میں دو قسم کے خیالات کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ایک وہ لوگ ہیں جو اس دنیا میں بسنے والے انسانوں کو مجبور اور اپنے ماحول کے اثر سے معذور قرار دیتے ہیں۔خدا تعالیٰ کو ماننے والے جو لوگ ہیں۔ان میں بھی یہ گروہ پایا جاتا ہے اور جو فلسفی ہیں اور خدا تعالیٰ کو نہیں مانتے۔ان میں بھی یہ گروہ پایا جاتا ہے۔ان میں سے جو لوگ خد اتعالیٰ کو ماننے والے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے ہر کام کو اپنے قبضہ میں رکھا ہے اور جو تقدیر اس نے مقرر کر دی ہے۔اس سے انسان سر موادھر اُدھر نہیں ہو سکتا۔اس نے اگر کسی انسان کو نیک بنادیا ہے تو وہ نیک ہے اور اگر اس نے کسی کو بد بنا دیا ہے تو وہ بد ہے۔اگر اس نے کسی کو عالم بنا دیا ہے تو اس کے عالم بنانے کی وجہ سے وہ عالم ہے اور اگر اس نے کسی کو جاہل بنادیا ہے تو اس وجہ سے وہ جاہل ہے۔جس کے لئے اس نے عالم ہونا مقدر کر دیا ہے وہ کسی صورت میں جاہل نہیں رہ سکتا اور جس کے لئے اس نے جاہل ہو نا مقدر کر دیا ہے وہ کسی صورت میں عالم نہیں ہو سکتا۔جو لوگ خدا تعالیٰ کے وجود کے قائل نہیں وہ تقدیر کو اور رنگ میں بیان کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں