خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 269

خطبات محمود 269 * 1942 کہ انسان آزاد نہیں۔آزادی اس کا نام ہے کہ اس پر ارد گرد کے حالات کا اثر نہ پڑے۔وہ کہتے ہیں کہ تم کہتے ہو ایک شخص عالم بن گیا اور دوسرا جاہل رہا مگر سوال تو یہ ہے کہ عالم کس طرح عالم بن گیا۔اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ اس کے ماں باپ امیر تھے۔وہ اس کی تعلیم کا خرچ برداشت کر سکتے تھے۔اس لئے وہ پڑھ لکھ کر عالم ہو گیا مگر جاہل کے والدین غریب تھے اور اس کی تعلیم پر خرچ نہ کر سکتے تھے اس لئے وہ جاہل رہا۔جو عالم ہو گیا علم کے حصول میں اس کے فعل کا دخل نہیں اور جو جاہل رہا اس کا جاہل رہنا اس کے اپنے فعل کے نتیجہ میں نہیں۔عالم اس وجہ سے عالم ہو گیا کہ اس کے ماں باپ اس کی تعلیم پر خرچ کر سکتے تھے اور جاہل اس وجہ سے جاہل رہا کہ اس کے ماں باپ اس کی تعلیم پر خرچ نہ کر سکتے تھے۔دوسری مثال یہ ہو سکتی ہے کہ ایک امیر کا لڑکا جاہل رہا اور غریب کا عالم ہو گیا اس کا سبب وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ بھی حالات کا نتیجہ ہے۔امیر والدین نے اپنے بیٹے کو لاڈ اور پیار میں رکھا اور اس لاڈ کے نتیجہ میں وہ تعلیم نہ حاصل کر سکا۔اس میں اس بچہ کا کوئی دخل نہیں۔یہ بھی اس کے ماں باپ کے فعل کا اثر ہے اور جو غریب کالڑ کا عالم ہو گیا اس کی وجہ یہ ہوئی کہ وہ اپنے کسی استاد یا کسی اور امیر کی نظر پڑھ گیا یا گورنمنٹ سے اسے وظیفہ حاصل ہو گیا اور اس وجہ سے وہ پڑھ لکھ کر عالم ہو گیا۔ان حالات نے اسے عالم بنادیا۔اس کا اپنا اس میں کوئی دخل نہیں یا مثلاً ایک لڑکے کا ذہن اچھا ہوتا ہے اور وہ پڑھ جاتا اور عالم بن جاتا ہے۔دوسرا کند ذہن ہوتا ہے اس لئے جاہل رہ جاتا ہے۔یہ بھی حالات کا ہی اثر ہے۔اچھا ذہن بھی ماں باپ کی خوراک پر ہیز وغیرہ کا نتیجہ ہوتا ہے۔اس لئے اچھا ذہن رکھنے والا لڑکا اگر پڑھ گیا تو اپنے برتے پر نہیں بلکہ حالات کے نتیجہ میں۔اسی طرح کند ذہن کا جاہل رہنا بھی ارد گرد کے حالات کے نتیجہ میں ہے۔پس ایک کا علم اور دوسرے کی جہالت دونوں مجبوریوں کے نتیجہ میں ہیں۔پھر وہ کہتے ہیں نیکی، بدی کو لے لو۔ایک شخص نیک ہے اور چوری نہیں کر تا تو اس کی وجہ یہ ہو گی کہ وہ کھاتا پیتا تھا، آسودہ حال تھا، اس کی ضروریات پوری ہوتی جاتی تھیں۔اس لئے اسے چوری کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔اس کے حالات ہی ایسے تھے کہ اسے دوسرے کا مال کھانے کی ضرورت ہی نہ تھی لیکن دوسرا بھوکا نگا اور محتاج تھا اس نے کھانے کی