خطبات محمود (جلد 23) — Page 267
* 1942 267 خطبات محمود کسی زندہ قوم کے افراد کے دل میں نہیں ہو سکتا اگر خدانخواستہ تمہارے دلوں میں موت کا ڈر ہے یا جاپانیوں کا ڈر ہے یا جرمنوں کا ڈر ہے۔تو اس کے معنے یہ ہیں کہ تمہارے دل کا اتنا حصہ ایمان سے خالی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں صاف طور پر فرماتا ہے اِيَّايَ فَارهَبُونِ ے کہ مجھ سے ہی ڈرو۔ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے تین دفعہ اس بات پر زور دیا ہے کہ صرف خدا سے ہی ڈرنا چاہئے کسی اور سے نہیں ڈرنا چاہئے۔چنانچہ ایاکی سے پہلے فعل محذوف ہے۔جو از هَبُوا ہے یعنی از هَبُوا اِيَّائی۔اس کے بعد ایک اور امر محذوف ہے جس پر نا کا حرف دلالت کرتا ہے اور وہ فعل بھی اِز هَبُوا یا تَرْهَبُوا ہے۔تیسری بار فارهَبُونِ کہہ کر پھر تاکید کی گئی ہے۔گویا اس فقرہ کو اگر پھیلایا جائے تو یوں بنے گا کہ اِذْهَبُوا اِيَّايَ اِرْهَبُوا فَارْهَبُونِ۔یعنی مجھ سے ڈرو۔ڈرو مجھ سے ہی ڈرو۔یعنی سوائے خدا کے کسی سے نہیں ڈرنا چاہئے۔یہی مومن کی علامت ہے۔جو شخص خدا تعالیٰ کے سوا کسی اور سے نہیں ڈرتا اس کو کوئی طاقت مغلوب نہیں کر سکتی۔اسی طرح جب کسی قوم کے دل سے ڈر نکل جائے تو وہ قوم یا تو مر جائے گی یا فاتح ہو کر زندگی بسر کرے گی غلام کی زندگی نہیں بسر کر سکے گی۔پس اپنے دلوں سے موت کا ڈر نکال دو اور سوائے خدا کے کسی سے نہ ڈرو۔پھر دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی تم کو مغلوب نہیں کر سکے گی ہاں اگر تم سچے احمدی نہیں تو تم کتوں سے بھی ڈر سکتے ہو، بلیوں سے بھی ڈر سکتے ہو، چوہوں سے بھی ڈر سکتے ہو اور پھر اگر تمہارا ناقص ایمان ہے تو تمہیں سب سے زیادہ اپنے نفس سے ڈرنا چاہئے کیونکہ تمہارا نفس تمہیں جہنم میں لے جاسکتا ہے لیکن اگر تم اللہ تعالی سے ڈرنے لگ جاؤ تو پھر تمہیں نہ نفس سے ڈرنے کی ضرورت ہے اور نہ کسی اور چیز سے۔خدا تعالیٰ کا ڈر تمہاری حفاظت کے لئے کافی ہے۔اور یاد رکھو کہ جہاں دنیا سے ڈرنا بزدلی کی علامت ہے وہاں خدا تعالیٰ سے ڈرنا بزدلی نہیں بلکہ جو لوگ خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہیں وہ سب سے زیادہ بہادر اور (الفضل 9 جولائی 1942ء) دلیر ہوتے ہیں۔66 1: کنگنی : ادنیٰ درجے کی جنس جس کے دانے نہایت باریک ہوتے ہیں 2 إن تَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ طَبِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ (الانفال: 66) 3: البقرة: 41