خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 201

* 1942 201 خطبات محمود یہ بات دشمنانِ اسلام کے لئے بھی حسرت کا موجب رہی ہے۔چنانچہ ایک یہودی نے حضرت عمر سے کہا کہ جب میں آپ کی شریعت کے احکام سنتا ہوں تو میر ادل حسرت سے بھر جاتا ہے کیونکہ اس میں ہر بات کے لئے ہدایت موجود ہے۔پیشاب پاخانہ کرنے، روٹی کھانے، پانی پینے، کپڑا پہنے، سونے جاگنے ، اٹھنے بیٹھنے غرضیکہ کوئی شعبہ زندگی کا ایسا نہیں جس میں تمہارے مذہب نے ہدایت نہ دی ہو۔2ے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ ہدایت نامہ ہمارے لئے احسان ہی احسان ہے۔اس کا بڑا ہونا بوجھ نہیں بلکہ بڑے ہونے سے احسان اور بھی بڑھ جاتا ہے۔بھلا اس شخص کا احسان ہم پر زیادہ ہوتا ہے جو ایک میل تک ہمیں رستہ دکھائے یا اس کا جو دس میل تک دکھائے۔کیا دس میل تک راہ نمائی کرنے والا ہم پر کوئی بوجھ ڈالتا ہے یا اس کا احسان اور بھی بڑھ جاتا ہے۔پس اسلامی شریعت ایک وسیع قانون ہے جو ہمیں ہر قسم کی غلطیوں سے بچاتا ہے اور ساری عمر ہمارے ساتھ چلتا ہے۔جس وقت بیوی اور میاں آپس میں ملتے ہیں اور بچہ کی پیدائش کا بیج بویا جاتا ہے اس وقت سے یہ ہدایت نامہ شروع ہوتا ہے پھر بچہ کے پیدا ہوتے ہی اسلام کی ہدایت اس کے کان میں ڈالی جاتی ہے اور اسلامی قانون ساری عمر اس کے ساتھ چلتا ہے اور پھر جب انسان مرنے لگتا ہے تو اس وقت بھی اسلامی ہدایت اس کے کان میں ڈالی جاتی ہے تاکہ آئندہ زندگی میں بھی اس کے کام آئے۔لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام کا یہ احسان اسی وقت مکمل ہو سکتا ہے جب ہم اس کی اطاعت و فرمانبر داری کریں۔دین کے معاملات میں بھی شریعت نے قانون مقرر کئے ہیں اور دنیا کے معاملات میں بھی۔لڑائی جھگڑے کے متعلق بھی قوانین ہیں مثلاً اگر کسی کو کسی سے کوئی نقصان پہنچے تو اسلام کی ہدایت یہ ہے کہ اس نقصان کا ازالہ قاضیوں سے کرایا جائے۔آج ہمارے ملک میں چونکہ غیر ملکی گورنمنٹ ہے۔اس لئے اسلامی قضاء سارے قانون پر حاوی نہیں ہے۔بعض امور ایسے ہیں کہ گورنمنٹ کا حکم ہے کہ ان کا فیصلہ بہر حال اس سے کرایا جائے اور چونکہ گورنمنٹ کے قانون کی پیروی کرنا بھی ہمارا فرض اسلام نے قرار دیا ہے۔اس لئے ایسے امور کا فیصلہ اسی کے مقرر کردہ جوں سے کرانا چاہئے مگر جن میں اس نے آزادی دی ہے کہ چاہیں تو آپس میں ہی فیصلہ کر لیں اور جو امور قابل دست اندازی پولیس نہیں ہیں ان میں