خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 202

* 1942 202 خطبات محمود اسلامی قانون جاری کرنا ہمارا فرض ہے اور چونکہ ہماری جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے منظم ہے اور ایک ہاتھ پر جمع ہے۔اس لئے ایسے امور میں جن میں گورنمنٹ نے آزادی دی ہے کہ اگر چاہیں تو انہیں اس کے پاس لے جائیں اور چاہیں تو نہ لے جائیں۔ان میں اسلامی شریعت کا دوبارہ زندہ کرنا ہمارا فرض ہے اگر چہ ہمارے لئے دوسرا حصہ بھی زندہ ہی ہے کیونکہ ہماری جماعت ہی واحد جماعت ہے جس کا عقیدہ یہ ہے کہ حکومت وقت کی اطاعت بھی خدا تعالیٰ ہی کی اطاعت ہے۔اس لئے جن امور کو ہم اس کے پاس لے جاتے ہیں۔ان میں بھی گویا شریعت کی اطاعت ہی کرتے ہیں۔جو لوگ حکومت وقت کے قانون کی پیروی کو جائز نہیں سمجھتے وہ اگر اپنے معاملات اس کے پاس لے جاتے ہیں تو گناہ کرتے ہیں۔لیکن ہمارے لئے یہ بھی ثواب ہی ہے کیونکہ اس طرح بھی ہم شریعت کی اطاعت ہی کرتے ہیں اور اسے زندہ کرتے ہیں۔جس طرح نماز کھڑے ہو کر پڑھنے کا حکم ہے لیکن بیمار بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے اور جو بیٹھ کر پڑھنے کو جائز سمجھتا ہے اس کا بیٹھ کر پڑھنا بھی ثواب ہی ہے لیکن جو بیٹھ کر پڑھنے کو جائز نہیں سمجھتا اور پھر پڑھتا بھی ہے وہ گو یا گناہ کرتا ہے اس کا بیٹھ کر پڑھنا اسلام کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔پس جو لوگ حکومت کے پاس اپنے معاملات لے جانا جائز نہیں سمجھتے خواہ انہیں جبر آہی جانا پڑے وہ خدا تعالیٰ کے قانون کو توڑنے والے ہیں۔صرف ہماری جماعت ہی ایک ایسی جماعت ہے جو حکومت وقت کی اطاعت کو بھی خدا تعالیٰ کی اطاعت ہی سمجھتی ہے۔اس لئے جن امور میں ہمیں حکومت کے پاس جانا پڑتا ہے ان میں بھی شریعت کا دوسراحصہ ہمارے لئے زندہ ہی ہے۔پس ہر احمدی جسے کوئی جھگڑا در پیش ہو اس کے لئے دو راستے ہیں۔اگر تو حکومت کا قانون یہ ہے کہ اسے اس کی قائم کردہ عدالتوں میں لے جائیں اور حکومت کا دروازہ ہی کھٹکھٹائیں تو جو شخص کوئی اور راستہ اس کے سوا اختیار کرتا ہے وہ حکومت اور سلسلہ دونوں کا باغی ہے لیکن جن امور کا فیصلہ سرکاری عدالتوں سے کرانا ضروری نہیں بلکہ ہمیں آزادی ہے کہ چاہیں تو خود کر لیں اور چاہیں تو رحم سے کام لیتے ہوئے معاف کر دیں۔ان معاملات کو جو شخص قضاء میں نہیں لے جاتا بلکہ خود فیصلہ کرنا چاہتا ہے یا زور و جبر سے کام لیتا ہے وہ مجرم ہے خدا تعالیٰ کا بھی اور جماعت کا بھی۔یہ قاضی کا ہی کام ہے کہ وہ کسی شخص کو سزادے یا نہ دے