خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 200

* 1942 200 خطبات محمود صا الله سة اس کے ہاتھ کو پرے ہٹاتے ہوئے کہا کہ اپنے ناپاک ہاتھ کو رسول اللہ (صلی ) کی پاک داڑھی سے پرے ہٹاؤ۔صحابہ اس وقت زر ہیں اور خود پہنے ہوئے تھے اور خود مُنہ کو ڈھانک دیتا ہے۔جب اس صحابی نے تلوار کے دستے سے اس کے ہاتھ کو پرے ہٹایا تو اس رئیس نے اس کی طرف غور سے دیکھا اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پہچان لیا کہ فلاں شخص ہے اور کہا کون؟ کیا فلاں ہے ؟ تم کو کس طرح جرآت ہوئی کہ میر اہاتھ پرے ہٹاؤ۔یاد ہے میں نے تم پر فلاں احسان کیا ہے۔یہ بات سن کر باوجودیکہ صحابہ رسول کریم صلی ایم کے عاشق و شیدا تھے مگر احسان کا شریف آدمی پر اتنا اثر ہوتا ہے کہ وہ صحابی پیچھے ہٹ گئے اور دوسرے کسی کو بھی جرأت نہ ہوئی کہ اس کا جواب دے۔آخر باتیں کرتے کرتے اس نے پھر جوش میں آنحضرت صلی الم کی ریش مبارک کو ہاتھ لگایا اور کہا کہ میری بات مان لو۔اس وقت سب صحابہ کھڑے تھے مگر کوئی بول نہ سکتا تھا کیونکہ سب کو یاد تھا کہ اس شخص نے مجھ پر یا میرے خاندان پر فلاں فلاں وقت احسان کیا ہوا ہے۔ان کے دل کو یہ حرکت بُری تو لگتی تھی مگر وہ شرم کے مارے آگے نہیں بڑھتے تھے۔اتنے میں ان میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور اس نے اس رئیس کے ہاتھ کو سختی سے ہٹاتے ہوئے کہا کہ ہٹاؤ اپنا نا پاک ہاتھ رسول اللہ (صلی ییلم) کی پاک داڑھی سے۔اس رئیس نے پھر اس شخص کو دیکھا اور پہچان کر آنکھیں نیچی کر لیں اور کہا ابو بکر بے شک تم یا تمہارے خاندان پر میرا کوئی احسان نہیں۔تمہیں بے شک حق حاصل ہے کہ میرے ہاتھ کو پرے ہٹا سکو۔تو دیکھو ایسے نازک وقت میں بھی شریف آدمی کی آنکھیں احسان کو یاد کر کے نیچی ہو جاتی ہیں جیسے صحابہ کی اس وقت ہو گئیں۔تو اگر کوئی کسی پر ایک بھی احسان کرے تو سالہا سال تک آنکھیں نیچے رہتی ہیں مگر جس محسن کے احسانات بے شمار ہوں۔صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک اٹھتے بیٹھتے ، کھاتے پیتے، سوتے جاگتے جس کے احسانات ہوں اس کے اتنے احسانات کے بعد اگر کوئی ایک آدھ بات سمجھ میں نہ آئے تو یہ کتنی حماقت ہے کہ انسان اکٹڑ کر بیٹھ جائے اور کہے کہ جب تک میری سمجھ میں یہ بات نہ آئے۔میں کس طرح مان لوں۔اسلام نے ایسی کامل تعلیم دی ہے جو انسان کے ہر شعبہ زندگی میں جاری ہے۔زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں اس کے احکام ہمارے سامنے نہیں آجاتے۔