خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 546 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 546

* 1942 546 خطبات محمود اس وقت مجھے طرح طرح کی دھمکیاں دی جاتی تھیں اور وہی دوست جو آج بڑے اخلاص سے میرے ساتھ شامل ہیں، مشورے دیا کرتے تھے کہ ان لوگوں کا مقابلہ کرنا آسان نہیں آپ یہ بوجھ نہ اٹھائیں۔گو ایسے بھی تھے جو باوجود اس وقت کے لحاظ سے خاص رسوخ نہ رکھنے کے اور باوجود اس کے کہ انہیں کوئی مالی یا دنیوی وجاہت حاصل نہ تھی بلکہ غربت کی حالت تھی پھر بھی وہ اخلاص اور محبت سے میری تائید کرتے تھے۔چنانچہ معلوم نہیں انہیں یاد ہے یا نہیں مگر چودھری عبد اللہ خان صاحب دا تازید کا والے جو چودھری ظفر اللہ خان صاحب کے ماموں ہیں ان کے متعلق مجھے خوب یاد ہے کہ جب یہ باتیں شروع ہوئیں تو مسجد مبارک کی جو چھوٹی سیڑھیاں چڑھتی ہیں اس کے اوپر جہاں لکڑی لگی ہوئی ہے اور جو تیاں رکھنے کے لئے جگہ ہے وہاں کھڑے ہو کر انہوں نے مجھے ہمت دلائی اور کہا کہ یہ سلسلہ کا کام ہے آپ بے شک دلیری سے ان لوگوں کا مقابلہ کریں۔تو میں نے اس وقت جب جماعت کے بڑے بڑے آدمی حیران و پریشان تھے کہ وہ کیا کریں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس رو کا مقابلہ کیا جو زمانہ کے موعود کے درجہ کو گھٹانے کے لئے بعض لوگوں کی طرف سے اپنی دنیوی اغراض کے ماتحت جاری کی گئی تھی لیکن اگر اس کے یہ معنے ہوں کہ میں نے اس رو کا اپنی خواہش کے ماتحت مقابلہ کیا تو ایسا مقابلہ دین نہیں کہلا سکتا بلکہ میلان طبع اور دنیا بھی کہلا سکتا ہے۔جب تک وہ مقابلہ خالص طور پر سچائی کے لئے نہ ہو۔اور خالص سچائی چاہتی ہے کہ صرف ایک جہت کی نہیں بلکہ دونوں جہت کی حفاظت کی جائے۔جو شخص صرف ایک جہت کی حفاظت کرتا ہے اور دوسری جہت کی حفاظت کی پرواہ نہیں کرتا وہ راستباز نہیں کہلا سکتا۔وہ جو شیلا انسان تو کہلا سکتا۔مصلحت بین تو کہلا سکتا ہے، وہ سیاست دان تو کہلا سکتا ہے مگر وہ سچا نہیں کہلا سکتا۔سچائی چاہتی ہے کہ جہاں کہیں وہ ظاہر ہو اس کی تائید کی جائے۔ہے، پس جہاں میں نے اس رو کی مخالفت کی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے درجہ کو گرانے اور آپ کی شان کو کم کرنے کے لئے شروع کی گئی تھی وہاں میرا یہ بھی فرض ہے کہ میں ایسی تمام تحریکوں اور ان تمام طریقوں کی مخالفت کروں جن سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے درجہ کو ایسارنگ دے دیا جائے جس سے آپ رسول کریم صلی الم کے