خطبات محمود (جلد 23) — Page 547
* 1942 547 خطبات محمود مقابل پر یا آپ کے مماثل نظر آنے لگ جائیں۔چنانچہ جس وقت ہماری جماعت میں سے ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے متعلق یہ لکھنا شروع کر دیا کہ ان کا کلمہ پڑھنا جائز ہے اور قادیان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا بھی جائز ہے تو ان کی مخالفت کرنے والوں میں سے بھی میں ہی پہلا شخص تھا۔وہ ہمیشہ مجھے اکساتا رہتا تھا کہ لاہور والوں کا مقابلہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ وہ جس قدر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درجہ کو گرانے کی کوشش کریں اسی قدر آپ کے درجہ کو بڑھا کر بتایا جائے اور وہ چاہتا تھا کہ اس کا لٹریچر لوگوں میں تقسیم ہو مگر میں نے اسے کبھی وقعت نہیں دی کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی کے متعلق میری جد وجہد سچائی پر مبنی تھی، کسی جنبہ داری پر مبنی نہیں تھی۔اس لئے جب ایک اور شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے درجہ میں غلو سے کام لیا تو میں نے اس کی بھی مخالفت کی۔اس تمہید کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میرے آج کے خطبہ کا محرک یہ امر ہوا ہے کہ آج صبح جب میں نے “الفضل ” کو دیکھا تو اس کے ایک مضمون کا یہ عنوان تھا کہ تخت گاہِ رسول میں اہل اللہ کا عظیم الشان اجتماع ” اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ قادیان آپ کی تخت گاہ ہے۔میں نے خود کئی دفعہ یہ بات کہی ہے لیکن جب ہم بغیر کسی نسبت کے رسول کا لفظ بولتے ہیں تو اس سے مراد رسول کریم صلی ایم کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔یہ ایک دیوار ہے جو ہم نے رسول کریم صلی ال نیم کے عہدہ کے لئے کھینچ دی ہے اور جب ہم بغیر کسی نسبت کے رسول کا لفظ استعمال کریں تو اس وقت صرف اور صرف محمد رسول اللہ صلی الی تیم مراد لئے جاتے ہیں اور وہی مراد لئے جاسکتے ہیں۔اگر اس دیوار کو ہم توڑ دیں تو بہت سے کمزور لوگ ایسے ہو سکتے ہیں جو دھوکا کھا کر کہیں سے کہیں نکل جائیں۔اگر کسی غیر مقام اور قادیان کا مقابلہ ہو، سوائے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تو اس وقت مضمون کی وضاحت کے لئے اور یہ بتانے کے لئے کہ قادیان میں جس شخص نے احمدیت کا مرکز قائم کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا رسول ہے، کہہ سکتے ہیں، کہتے ہیں اور کہتے چلے جائیں گے کہ قادیان خدا کے رسول کا تخت گاہ ہے لیکن جب ہم