خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 394

* 1942 394 خطبات محمود راستہ میں بعض ایسے واقعات ہوئے کہ مجھے ڈر ہوا کہ شاید شام تک واپس نہ پہنچ سکیں لیکن میں نے بہت جلدی کی اور گھوڑا دوڑا تا آیا اور اسے دوڑاتے دوڑاتے شام سے قبل قادیان کی زمین میں لے آیا۔میرے ساتھی حیران تھے کہ کیا بات ہے۔اتنی جلدی کیوں کر رہے ہیں مگر میں چاہتا تھا کہ سفر روزہ کے اندر ہی ختم ہو جائے۔تو شریعت نے جو سہولتیں دی ہیں ان سے فائدہ نہ اٹھانا بھی ناجائز ہے۔جو بیمار روزہ رکھتا ہے وہ گنہگار ہے۔کم سے کم اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناقدری کرنے والا ہے۔اسی طرح جو سفر میں روزہ رکھتا ہے وہ بھی غلطی کرتا ہے اور روزہ تو اس کا بالکل نہیں ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی سفر میں روزہ رکھ لے تو کیا اس کا روزہ ہو جائے گا۔آپ نے فرمایا نہیں۔مسافر کا روزہ بہر حال روزہ نہیں شمار ہو گا۔نفلی روزہ تو بے شک بن جائے گا مگر فرضی نہیں۔فرضی پھر رکھنے ہوں گے۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ سفر میں روزہ رکھ لیتے ہیں اور پوچھا جائے تو کہتے ہیں پھر رکھنا مشکل ہو تا ہے اس لئے ابھی رکھ لیتے ہیں۔انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ مشکل کام ہی اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہی اس لئے تھا کہ وہ چاہتا تھا کہ مشکل کام کرائے اس لئے اگر وہ مشکل ہے تو وہی کرو۔اس کے علاوہ بعض اور باتیں بھی ہیں جو ان دنوں میں مد نظر رکھنی چاہئیں مثلاً دکاندار ان ایام میں ایسے طریق پر کام کریں کہ دوسروں کے لئے ٹھوکر کا موجب نہ ہو۔ایک دکان میں کوئی بیمار یا مسافر بیٹھ کر کھا رہا ہوتا ہے اور دشمن پاس سے گزرتا ہے تو سمجھتا ہے کہ احمدی روزے نہیں رکھتے۔ہر دکاندار بھی واعظ ہے اس کا صرف یہی فرض نہیں کہ کوئی ایک آنہ کا دودھ لینے آئے تو دے دے بلکہ یہ بھی ہے کہ اسے نصیحت کرے اور کہے کہ آپ احمدی ہیں، مسلمان ہیں آپ کو روزہ رکھنا چاہئے۔روزہ ہر مسلمان پر فرض ہے۔اگر وہ ایسا کرے تو اس کی روزی حلال کی روزی ہو گی ورنہ اگر وہ تبلیغ نہیں کرتا اور تبلیغ کے فرض کو بھول جاتا ہے تو وہ خود بھی حرام کھاتا ہے اور بیوی بچوں کو بھی حرام کھلاتا ہے اور ایسے بچے جو حرام کے مال سے پلے ہوئے ہوں اور جن کے خون کا ہر قطرہ حرام کا بنا ہو اہو ،نیک اور دیندار نہیں ہو سکتے۔پس اگر ایک شخص جو تندرست ہے اور مسافر بھی نہیں اس کے پاس سودا لینے آتا ہے تو دکاندار کا