خطبات محمود (جلد 23) — Page 393
* 1942 393 خطبات محمود بعض شکلیں بیماری کی ایسی ہوتی ہیں جو صحت کے مشابہ ہوتی ہیں مثلاً نزلہ ہوتا ہے۔انسان کہتا ہے کہ مجھے کوئی پتہ نہیں کہ مجھے کوئی تکلیف ہے لیکن در حقیقت نزلہ اگر واقعی نزلہ ہے، یہ نہیں کہ یونہی ذراسی رطوبت خارج ہوتی ہے تو وہ بیماری ہے۔یہ بھی صحیح ہے کہ نزلہ کی ابتدائی صورت میں فاقہ سے بھی فائدہ ہوتا ہے لیکن فاقہ بھی ایک حد تک مفید ہوتا ہے۔اگر فاقہ کو لمبا کر دیا جائے تو یہی نزلہ سل اور دق کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔پس بیمار انسان اگر کہتا ہے کہ میں کافی طاقتور ہوں ، روزہ رکھ سکتا ہوں اور رکھتا ہے تو بُرا کر تا ہے اسی طرح جو شخص سفر کرتا اور روزہ رکھتا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے انعام کو رد کرتا ہے۔سفر کے متعلق میر اعقیدہ اور خیال یہی ہے۔ممکن ہے بعض فقہاء کو اس سے اختلاف ہو کہ جو سفر سحری کے بعد سے شروع ہو کر شام کو ختم ہو جائے وہ روزہ کے لحاظ سے سفر نہیں۔سفر میں روزہ رکھنے سے شریعت روکتی ہے مگر روزہ میں سفر کرنے سے نہیں روکتی۔پس جو سفر روزہ رکھنے کے بعد سے شروع ہو کر افطاری سے پہلے ختم ہو جائے وہ روزہ کے لحاظ سے سفر نہیں۔وہ روزہ میں سفر ہے۔سفر میں روزہ نہیں۔جیسے مثلاً ظہر کی نماز کا وقت 1/2 12 سے 3 1/2 تک ہوتا ہے۔اب اگر کوئی شخص ایک بجے سفر شروع کرے اور تین بجے ختم کر دے۔آجکل موٹروں وغیرہ کی سہولت کے باعث اتنے وقت میں کافی سفر ہو سکتا ہے۔انسان بٹالے جا کر واپس آسکتا ہے بلکہ اگر پختہ سڑک ہو تو امرت سر جا کر بھی واپس آسکتا ہے اور تھیس چالیس میل کا سفر کر سکتا ہے۔اس لئے اگر کوئی شخص ایسے سفر میں نماز قصر کر کے پڑھے تو ہم کہیں گے کہ اس نے شریعت کے منشاء کو پورا نہیں کیا۔کیوں اس نے نماز سفر شروع کرنے سے پہلے یا ختم کرنے کے بعد نہیں پڑھی۔یہ نماز کے وقت میں سفر ہے۔سفر میں نماز نہیں۔ہاں اگر کوئی بارہ بجے سفر شروع کرتا اور مثلاً چار بجے ختم کرتا ہے تو اس کا سفر نماز کے وقت سے آگے نکل گیا اس لئے اسے آدھی نماز پڑھنے کا حکم ہے۔وہ اگر پوری پڑھتا ہے تو غلطی کرتا ہے۔پس جو سفر صبح سے شروع ہو کر شام تک ختم ہو جائے وہ روزہ کے لئے سفر نہیں، نماز کے لئے ہے۔وہ ظہر اور عصر کی نمازیں پڑھے گا قصر کر کے مگر روزہ رکھے گا۔میرا اپنا عمل یہی ہے۔میں ایک دفعہ رمضان میں روزہ رکھ کر دریا پر گیا۔ہم لوگ صبح گئے اور شام کو آگئے۔