خطبات محمود (جلد 23) — Page 395
* 1942 395 خطبات محمود فرض ہے کہ اسے نصیحت کرے لیکن اگر کوئی بیمار یا مسافر آئے تو اسے بھی کہے کہ آپ اندر کونے میں آجائیں اور وہاں بیٹھ کر کھائیں تا دوسروں کو ٹھوکر نہ لگے۔ہاں ایسی بات کو حد تک پہنچانا بھی گناہ ہے کیونکہ وہ منافقت بن جاتی ہے۔جس طرح پاخانہ میں کھڑے ہو کر کھانا بھی غلطی ہے اسی طرح اگر انسان بیمار ہو اور اس وجہ سے روزہ نہ رکھے لیکن دوسروں پر ظاہر اس طرح کرے کہ گویا اس نے روزہ رکھا ہوا ہے تو یہ بھی گناہ ہے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام دہلی سے تشریف لا رہے تھے۔میں بھی ساتھ تھا۔امرت سر میں آپ کا لیکچر مقرر ہو چکا تھا۔آپ لیکچر دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو مفتی فضل الرحمان صاحب مرحوم نے اس خیال سے کہ گلے کو تکلیف نہ ہو آپ کے لئے چائے کی پیالی تیار کر کے پیش کی۔میں بھی اس وقت پاس ہی بیٹھا تھا۔میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہاتھ کے اشارہ سے پیچھے ہٹایا اور چائے پیش کرنے سے روکا۔تھوڑی دیر بعد مفتی صاحب نے پھر چائے پیش کرنی چاہی مگر آپ نے پھر روکا۔گویا دو بار آپ نے یہ اشارہ فرمایا کہ خواہ مخواہ دوسروں کے لئے ٹھو کر کا باعث نہ بننا چاہئے مگر مفتی صاحب نے نہ سمجھا اور پھر چائے پیش کر دی۔اب گویا مشکل یہ بن گئی تھی کہ نہ پینا مسئلہ کو چھپانا ہو جاتا اس لئے آپ نے پیالی ہاتھ میں لے کر منہ سے لگائی اور ادھر لوگوں نے اینٹیں، پتھر مارنے شروع کر دیئے اور گالیاں دینے لگے اور ایسی شورش ہوئی کہ پولیس آپ کو گاڑی میں سوار کر کے قیام گاہ پر پہنچانے پر مجبور ہو گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انکار پر زیادہ اصرار کرنا بھی نامناسب تھا۔بہتر یہی ہے کہ جہاں تک دوسرے کو ٹھوکر سے بچایا جا سکے بچایا جائے۔مگر یہ بھی درست نہیں کہ روزہ نہ ہو اور ظاہر اس طرح کیا جائے کہ لوگ سمجھیں روزہ ہے۔جہاں یہ منع ہے کہ رمضان کے دنوں میں بازار میں کھایا جائے وہاں روزہ نہ ہونے کی صورت میں ظاہر یہ کرنا کہ روزہ ہے منافقت بن جاتی ہے۔پس ہمارے دکانداروں کو مد ہونا چاہئے مظلوم جماعت کے قیام اور اسلام کی تعلیم کو پھیلانے میں۔اگر ایک شخص ہٹا کٹا اور تندرست ہے تو جب وہ سودا لینے آئے تو اسے روکیں اور کہیں کہ تمہیں روزہ رکھنا چاہئے۔وہ یہ خیال ہر گز نہ کریں کہ اس طرح ہماری پکری پر اثر پڑے گا اور ہم کنگال ہو جائیں گے۔جو انسان خدا تعالیٰ پر