خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 386

* 1942 386 خطبات محمود ہیں اور جو آتے ہیں وہ اس تاڑ میں رہتے ہیں کہ امام کب آتا ہے تا کہ وہ اسی وقت مسجد میں آئیں، جب امام آئے۔اس سے پہلے انہیں مسجد میں آکر بیٹھنا نہ پڑے۔گویا مسجد ان کے نزدیک ایسی ہی چیز ہوتی ہے جیسے انگاروں پر چلنا۔جس طرح انگاروں پر چلنے والا جلدی جلدی چلتا ہے کہ کہیں میرے پیر نہ جل جائیں اسی طرح وہ بھی چاہتے ہیں کہ مسجد میں تھوڑے سے تھوڑا عرصہ ٹھہریں اور جلد سے جلد چلے جائیں۔پھر بجائے اس کے کہ وہ مسجد میں خاموشی سے بیٹھیں اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں، دو دو مل کر باتیں کرنے لگ جاتے ہیں حالانکہ مسجدیں اس لئے نہیں ہو تیں کہ ان میں بیٹھ کر دنیا کی باتیں کی جائیں۔مسجد میں یا تو دینی باتیں ہونی چاہئیں اور یا پھر ہر انسان کو ذکر الہی میں مشغول رہنا چاہئے۔جب تک نوجوانوں میں یہ روح پیدا نہیں ہوتی۔میں نہیں سمجھ سکتا ان میں خشیت اللہ کس طرح پیدا ہو سکتی ہے اور جب تک کسی کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی خشیت پیدا نہیں ہوتی۔ہم کس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ وہ ایک سچا احمدی ہے۔ہاں اگر خدا کی محبت پیدا ہو جائے تو رفتہ رفتہ باقی تمام خوبیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔اگر کسی کے دل میں خدا کی محبت نہ ہو تو اس کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے ریت میں کیلا گاڑا ہوا ہو۔بظاہر وہ گڑا ہوا نظر آتا ہے لیکن اگر ذرا بھی اسے ٹھوکر لگائی جائے تو وہ فوراًاکھڑ جاتا ہے لیکن جس دل میں خدا تعالیٰ کی محبت ہو اس کی مثال ایسی ہوتی ہے جیسے کسی مضبوط چٹان میں کوئی کیلا گاڑ دیا جائے۔ایسے کیلے کو اگر ہتھوڑے بھی مارو تو وہ ملنے کا نام نہیں لے گا۔پس اصل چیز ذکر الہی، خدا تعالیٰ کی محبت اور مساجد کے ساتھ تعلق ہے۔خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ نوجوانوں میں یہ باتیں پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ان پر ذکر الہی کی اہمیت واضح کریں، ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کریں اور انہیں مساجد میں زیادہ وقت صرف کرنے کی عادت ڈالیں۔میں نے دیکھا ہے خدام الاحمدیہ نے نماز باجماعت میں نوجوانوں کی سستی کو دور کرنے کی کوشش کی اور قادیان میں اپنی اس کوشش میں وہ بہت حد تک کامیاب ہو گئے۔اب اس سبق کو وہ نوجوانوں کے ذہن نشین کرنے کی کوشش کریں کہ وہ مساجد کے ساتھ تعلق رکھیں، ذکر الہی کی عادت ڈالیں اور اللہ تعالیٰ کی محبت اپنے دلوں میں پیدا کریں۔اس کے بعد انہیں خود بخود نظر آجائے گا کہ نوجوانوں کے اخلاق کی بہت کچھ اصلاح ہو گئی ہے۔اب تو وہ