خطبات محمود (جلد 23) — Page 385
$1942 385 خطبات محمود ان کو بھی توجہ دلاتا ہوں جن کو معماری کا فن آتا ہے کہ وہ اپنی خدمات اس غرض کے لئے پیش کریں۔آجکل عام طور پر عمارتوں کے کام بند ہیں اور وہ اگر چاہیں تو آسانی سے اپنے اوقات اس خدمت کے لئے وقف کر کے ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔پس جن معماروں کو خدا تعالیٰ توفیق دے وہ ایک ایک، دو دو، تین تین، چار چار دن جس قدر خوشی کے ساتھ دے سکتے ہوں دیں تاکہ غرباء کے مکانوں کی مرمت ہو جائے۔مزدور مہیا کرنا خدام الاحمدیہ کا کام ہو گا اس صورت میں بعض اور چیزوں کے لئے بہت تھوڑی سی رقم کی ضرورت ہو گی جس کے متعلق ہم کوشش کریں گے کہ چندہ جمع ہو جائے مگر جہاں تک خدمت کا کام ہے خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ وہ اس کو خود مہیا کرے۔اس طرح خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی کم خرچ پر غرباء کے مکانات کی مرمت ہو جائے گی۔تیسری چیز جس کی طرف میں خدام الاحمدیہ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے نماز ایک قشر ہے اور اس کی اصل غرض یہ ہے کہ دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور ذکر الہی کا انس پیدا ہو۔ذکر الہی کا انس آج کل مغربی اثر کے ماتحت بہت کچھ کم ہوتا جاتا ہے۔اس لئے میں انہیں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ نوجوانوں میں اس قسم کے وعظ کثرت سے کرائیں جن میں ذکر الہی کی اہمیت بیان کی گئی ہو اور انہیں بتایا جائے کہ جب تک وہ مسجد میں بیٹھنے اور ذکر الہی کرنے کی عادت اختیار نہیں کریں گے۔اس وقت تک خدا تعالیٰ کے فضلوں کے نشانات کا وہ مشاہدہ نہیں کر سکیں گے۔اسی طرح محمدصلی اللی علم کا دیدار سچے رویا و کشوف اور الہامات وغیرہ انہیں نہیں ہو سکیں گے۔جب تک وہ ذکر الہی کی طرف توجہ نہیں کریں گے خالی خولی نماز پڑھ کر چلے جانا اور باقی وقت گپیوں میں ضائع کر دینا بہت بری بات ہے۔اس سے دل سخت ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے انوار قلب پر نازل نہیں ہوتے اِلَّا مَا شَاءَ اللہ کسی پر احسان کر کے خدا تعالیٰ کوئی نور نازل کر دے تو اور بات ہے۔پس خدام الاحمدیہ کے افسروں کو چاہئے کہ وہ خصوصیت سے مختلف مساجد اور مختلف حلقوں میں اس قسم کے وعظ کرائیں تاکہ نوجوانوں کے دلوں میں عبادت اور ذکر الہی کا شوق پید ا ہو۔اب تک خدام الاحمدیہ کی طرف سے اس قسم کی بہت کم کوشش کی گئی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اول تو نوجوان مسجد میں کم آتے