خطبات محمود (جلد 23) — Page 383
* 1942 383 خطبات محمود آنے میں بہت دیر ہو گئی تو ان میں سے بعض کے پاس تیل ختم ہو گیا اور انہوں نے دوسری عورتوں سے کہا کہ اس وقت دکانوں سے تیل مل نہیں سکتا، کچھ تیل ہم کو بھی دو تاکہ ہم اپنی مشعلوں کو روشن رکھیں تب جن کے پاس تیل تھا انہوں نے کہا ہم تم کو کس طرح تیل دے سکتی ہیں، ہمارے پاس جو تیل ہے وہ صرف اپنی ضرورت کے لئے ہے۔تم اپنے گھروں کو جاؤ اور جس طرح ہو سکے تیل لاؤ چنانچہ وہ تیل لینے کے لئے اپنے گھروں کو لوٹ گئیں مگر ادھر وہ تیل لینے گئیں اور اُدھر دولہا آ گیا۔وہ جن کے پاس تیل تھا انہیں دولہا اپنے ساتھ لے گیا اور اس نے قلعہ کے اندر جا کر اس کا دروازہ بند کر لیا۔اتنے میں دوسری عورتیں بھی آپہنچیں اور انہوں نے دروازہ پر دستک دی کہ ہم آگئی ہیں ہمارے لئے دروازہ کھولا جائے۔دولہا نے کہا تم میری دلہنیں نہیں ہو میری دلہنیں وہ ہیں جو میرے انتظار میں کھڑی رہیں اور میرے ساتھ قلعہ کے اندر آئیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ جب اپنے بندوں سے ملنے کے لئے آتا ہے تو وہ کبھی سیلابوں کی صورت میں آتا ہے، کبھی زلزلوں کی صورت میں آتا ہے اور کبھی بیماریوں کی صورت میں آتا ہے۔جو لوگ خدمت خلق کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کا وصال حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ ایسے مواقع پر اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت کر کے اس کے قرب کو پالیتے اور اس کی رضا کو حاصل کر لیتے ہیں۔گویا ان کی مثال ان دلہنوں کی سی ہوتی ہے جن کے پاس تیل تھا اور جب دولہا آیا تو وہ اس کے ساتھ چل پڑیں مگر جو لوگ ایسے موقع پر دوسروں کی خدمت کرنے سے گریز کرتے ہیں ان کی مثال ان دلہنوں کی سی ہوتی ہے جن کا تیل ختم ہو گیا اور وہ دولہا کے ساتھ نہ جاسکیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ دولہا نے انہیں اپنی دلہنیں بنانے سے انکار کر دیا۔پس خدام الاحمدیہ کے وہ افسر جنہوں نے اس موقع پر غفلت اور کو تاہی سے کام لیا ہے ان کے متعلق تحقیق کر کے انہیں سرزنش اور تنبیہ کرنی چاہئے۔ان کا فرض تھا کہ وہ رات دن کام کرتے اور اس خطرناک مصیبت کے وقت لوگوں کی ہر رنگ میں اعانت کر کے اپنے فرض کو ادا کرتے مگر انہوں نے بہت بڑی کو تا ہی سے کام لیا ہے اور اب خدام الاحمدیہ کے افسروں کا یہ کام ہے کہ وہ ان کو سرزنش کریں۔دو تین سال تک انہیں محنت کرانے کا کیا فائدہ ہوا۔جب عین اس موقع پر جبکہ خدا نے ان کا امتحان لیا وہ فیل ہو گئے۔اگر وہ اس امتحان میں شامل ہو