خطبات محمود (جلد 23) — Page 382
خطبات محمود 382 * 1942 قیام اسی لئے کیا گیا تھا مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب سیلاب آیا تو تمام مقامات کے خدام الاحمدیہ اپنے اپنے گھروں میں سوئے رہے یہاں تک کہ شاہدرہ کی جماعت کے متعلق مجھے یہ شکایت پہنچی کہ وہاں جب سیلاب آیا تو شاہدرہ کے خدام میں سے ایک شخص بھی لوگوں کی مدد کے لئے نہ آیا بلکہ لاہور سے بعض خدام مدد کے لئے پہنچے۔اس کے یہ معنے نہیں کہ میں لاہور والوں کی تعریف کر رہا ہوں۔انہوں نے بھی قابل تعریف نمونہ نہیں دکھایا۔لاہور ایک بہت بڑا شہر ہے اور شاہدرہ وغیرہ اس کے قریب ہیں ایسے موقع پر انہیں چاہئے تھا کہ وہ اپنے سب کام کاج چھوڑ کر لوگوں کی خدمت کرتے مگر جہاں تک میری اطلاعات ہیں مجھے افسوس ہے کہ یہ کام خدام الاحمدیہ نے نہیں کیا۔پس ایک طرف میں خدام الاحمدیہ کے افسروں کو توجہ دلاتا ہوں کہ کیا وہ قشر پر خوش ہیں اور کیا اتنی سی بات پر ہی ان کے دل تسلی پا چکے ہیں کہ وہ چھلکے اور ظاہر کی درستی میں لگے رہتے ہیں اور مہینہ دو مہینہ کے بعد ایک دن لوگوں کو پانی پلا پلا کر اور سانس دلا دلا کر اور ڈاکٹری مدد پہنچا پہنچا کر کچھ کام کر الیتے ہیں۔اگر وہ صرف اسی بات پر خوش ہیں تو میں انہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس قسم کے کاموں کا دنیا کو کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔یہ شو تو ہے، نمائش تو ہے، پریڈ تو ہے لیکن اگر اصل موقع پر کام نہ کیا جائے تو پھر یہ کام پریڈ کی حیثیت بھی نہیں رکھتا۔صرف شو اور نمائش کی حیثیت رکھتا ہے۔پس میں خدام الاحمدیہ کے افسروں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ان تمام علاقوں کی مجالس کے پاس جہاں جہاں سیلاب آئے ہیں اپنے آدمی بھجوا کر پتہ لگائیں کہ وہاں کی مجالس نے سیلاب کے موقع پر لوگوں کی کیا خدمت کی ہے اور آیادہ خدمت ایسی تھی جو ان کی شان کے شایان تھی۔پھر اگر ثابت ہو کہ خدام الاحمدیہ کی مجالس نے اپنے فرض کی بجا آوری میں غفلت سے کام لیا ہے تو ان کو سرزنش اور تنبیہہ کی جائے۔یہی وہ اصل غرض تھی جس کے لئے وہ اتنے سالوں سے تیاری کر رہے تھے مگر جب وہ وقت آیا اور وہ دن آیا جس کے لئے انہیں تیار کیا جارہا تھا تو انہوں نے اپنے فرض کو فراموش کر دیا اور اس نہایت ہی قیمتی موقع کو ضائع کر دیا۔حضرت مسیح ناصری نے انجیل میں کیا ہی لطیف تمثیل بیان فرمائی ہے کہ کچھ عورتیں تھیں جو دولہا کے انتظار میں کھڑی رہیں، کھڑی رہیں، کھڑی رہیں اور کھڑی رہیں۔جب دولہا کے