خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 384

خطبات محمود 384 * 1942 جاتے اور خراب پرچے کرتے تب بھی وہ اتنا کہہ سکتے تھے کہ ہم امتحان میں تو شامل ہو گئے یہ دوسری بات ہے کہ ہمارے پرچے اچھے نہیں ہوئے۔مگر ان کی تو یہ کیفیت ہے کہ وہ اس امتحان میں شامل ہی نہیں ہوئے۔امتحان کے کمرہ میں انہوں نے قدم بھی نہ رکھا اور پرچے کو انہوں نے ہاتھ بھی نہیں لگایا۔کیا تم سمجھتے ہو ایسے لوگوں کو خدائی یونیورسٹی کی طرف سے کوئی سند ملے گی۔سند کیا وہ تو ایسے لوگوں کا نام اپنے رجسٹروں سے نکال باہر کرے گی۔پھر صرف باہر کے خدام الاحمدیہ پر ہی نہیں بلکہ مرکز پر بھی مجھے افسوس ہے کہ اس نے اب تک کیوں اس بارہ میں کوئی قدم نہیں اٹھایا اور کیوں مجھے کہنے کی ضرورت پیش آئی۔انہیں تو چاہئے تھا کہ جب بھی وہ سنیں کہ لوگوں پر کوئی عام مصیبت آگئی ہے وہ اس کو دور کرنے کے لئے ایسے رنگ میں کام کریں جو دوسروں سے بہت زیادہ شاندار اور ممتاز ہو۔ہم صرف اتنی بات پر خوش نہیں ہو سکتے کہ ہمارے خدام نے دوسرے لوگوں جتنا کام کیا ہے بلکہ ہماری خوشی اور ہماری مسرت اس بات میں ہے کہ ہماری جماعت کے خدام دوسری تمام اقوام کے نوجوانوں سے زیادہ نمایاں حصہ خدمت خلق میں لیں۔پس خدام الاحمدیہ کے افسر اس امر کی تحقیق کریں اور جنہوں نے اس موقع پرستی دکھائی ہے ان کو سرزنش کریں۔یہ تو ہو نہیں سکتا کہ اب اللہ تعالیٰ دوبارہ تمہارا امتحان لینے کے لئے پھر دنیا کے ایک بہت بڑے حصہ کو غرق کر دے۔خدا نے ایک بار تمہارا امتحان لیا اور اس میں تم فیل ہو گئے اور بری طرح فیل ہوئے۔اب یہ نہیں ہو سکتا کہ تمہارا دوبارہ امتحان لینے کے لئے اللہ تعالیٰ دوبارہ لوگوں کو غرق کرے اور پھر سیلابوں سے تباہی آئے۔یہ سیلاب اور قحط وغیرہ اللہ تعالیٰ کے بعض اور قوانین کے ماتحت آتے ہیں اور اس کی سنت ہے کہ وہ ایسے عذاب مسلسل نہیں بلکہ کچھ عرصہ کے بعد بھیجا کرتا ہے۔ایسے موقع پر خدمت خلق کرنے والی جماعتیں اپنے آپ کو پاس کرا لیتی ہیں مگر جو لوگ خدمت سے محروم رہتے ہیں وہ نیکی کے ایک بہت بڑے موقع کو اپنے ہاتھ سے ضائع کر دیتے ہیں۔دوسری بات جس کی طرف میں خدام الاحمدیہ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ بارشوں کی کثرت کی وجہ سے اس دفعہ قادیان میں بہت سے غرباء کے مکان گر گئے ہیں۔ان مکانوں کی مرمت اور تعمیر میں خدمت خلق کرنے والوں کو حصہ لینا چاہئے۔میں اس موقع پر