خطبات محمود (جلد 23) — Page 278
* 1942 278 خطبات محمود آزادی کا حلقہ ہے مگر تقدیر کو بھی ساتھ لگا دیا ہے اور ایسی صورت میں انسان کو یہ اجازت نہیں کہ اسباب اور تدبیر کو چھوڑ دے۔اگر کوئی کھانا کھانا چھوڑ دے اور کہے کہ میں تو کل کرتا ہوں تو وہ گنہگار ہو گا۔اگر بیمار اپنا علاج نہ کرے تو وہ گنہگار ہو گا سوائے اس کے کہ تقدیر خاص جاری ہو۔جب خد اتعالیٰ یہ کہے کہ کھانا نہیں کھانا تو کھانے والا گنہگار ہو گا۔مگر عام قانون کے ماتحت نہ کھانے والا گنہگار ہے کیونکہ حکم یہی ہے کہ کھانا کھایا جائے مگر کھانے سے پہلے بسم اللہ کہنے کی ہدایت فرمائی ہے کیونکہ گو کھانا پیٹ بھرنے کا موجب ہوتا ہے مگر بعض اوقات ہیضہ کا موجب بھی بن جاتا ہے۔پھر سیری تکبر کا موجب بھی ہو سکتی ہے۔اس لئے فرمایا کہ جب کھا چکو تو الْحَمْدُ لِلَّهِ کہو۔گو یہ دائرہ تدبیر کا ہے مگر تقدیر بھی ساتھ شامل ہے۔کوئی تدبیر مکمل نہیں ہو سکتی جب تک تقدیر اس کے ساتھ شامل نہ ہو اور کوئی تقدیر مکمل نہیں ہو سکتی جب تک کہ تدبیر شامل نہ ہو اِلَّا مَا شَاءَ الله - بعض اوقات اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے کہ تدبیر نہ کرنا۔ایسے وقت میں تدبیر کرنا گناہ ہو جاتا ہے مگر عام قاعدہ یہی ہے کہ تدبیر کے دائروں میں تدبیر مقدم ہوتی ہے اور تقدیر دوسرے درجہ پر مگر جو تقدیر کا دائرہ ہے وہاں تو کل مقدم ہے اور اسباب کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے۔جب کوئی انسان بیمار ہو تو علاج اصل کام ہے اور دعا ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔اصل ذریعہ اسباب ہیں مگر اسباب کی حفاظت اور ان کے بے راہ نہ ہونے کے لئے دعا سکھائی ہے مگر جب تقدیر آتی ہے تو وہاں اسباب کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے۔ایسی صورت میں اگر اسباب میسر نہ آئیں تو نہ آئیں۔اسی طرح اسباب کے دائرہ میں دعا کی طرف کسی وقت رغبت نہ بھی ہو تو اس کے یہ معنی نہیں کہ اسباب چھوڑ دیئے جائیں۔اس کی مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ مثلاً کسی علاقہ میں طاعون یا ہیضہ یا کوئی اور وبا پھیلتی ہے اس صورت میں شریعت کا حکم ہے کہ اس علاقہ میں نہ جاؤ اور یہ مقدم ہے۔کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں دعا کر کے اس علاقہ میں چلا گیا تھا کیونکہ یہاں دعا کا مقام دوسرے نمبر پر ہے مگر استثنائی طور پر یہ دائرہ ٹوٹ بھی جاتا ہے مثلاً طبیب وہاں جاتا ہے یا ایسے علاقہ میں فساد ہو جاتا ہے تو کوئی حاکم اپنے فرض کو ادا کرنے کے لئے جاتا ہے۔ان کا وہاں جانا ہی ضروری ہے وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہاں طاعون یا ہیضہ ہے ہم وہاں کس طرح جائیں۔یہ تو تدبیر کی مثال ہے