خطبات محمود (جلد 23) — Page 279
خطبات محمود 279 * 1942 تقدیر کی مثال جہاد ہے۔وہاں اصل حکم مرنے کا ہے جیسے وباء کے موقع پر جان کو بچانا اصل حکم ہے۔جہاد کے موقع پر اصل حکم جان دینا ہے۔جہاں جان بچانے کا حکم ہے وہاں جان دینے کے خطرہ میں پڑنا استثنائی حیثیت رکھتا ہے مثلاً کسی طبیب یا حاکم کا اس علاقہ میں جانا، ان کے لئے یہی حکم ہے کہ وہاں جاؤ اور جان کی پرواہ نہ کرو مگر جہاں جان دینے کا حکم ہے وہاں جان بچانے کی تدبیر کرنا ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔اسی وجہ سے جہاد کے موقع پر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میرے پاس گھوڑا نہیں یا تلوار نہیں۔میں جہاد کے لئے کس طرح جاؤں۔جہاد کا جب بھی حکم ہو سامان ہو یا نہ ہو جانا ضروری ہے۔سوائے اس کے کہ کوئی انسان جسمانی لحاظ سے معذور ہو۔بعض احادیث میں آتا ہے کہ بدر کی جنگ میں بعض صحابہ کے پاس صرف لاٹھیاں تھیں تلواریں نہ تھیں۔تو جب تقدیر جاری ہو تو وہاں تدابیر ثانوی درجہ اختیار کر لیتی ہیں اور ان کا فقدان انسان کو معذور قرار نہیں دیتا۔غرض دنیا میں دو قسم کے حالات خدا تعالیٰ کی طرف سے جاری ہیں۔ایک وہ جب تدبیر کا پہلو بھاری ہوتا ہے اور ایک وہ جن میں تقدیر کا پہلو بھاری ہوتا ہے۔عذاب یا انقلاب کے مواقع دوسری قسم کے ہیں۔ان میں تقدیر اپنا کام کر رہی ہوتی ہے۔اس وقت انسان کا تدابیر کی طرف زیادہ دھیان دینا اپنی قسمت سے کھیلنا ہوتا ہے۔اس وقت انسان کو تو کل سے کام لے کر خدا تعالیٰ کی تقدیر کو قبول کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی نیک تقدیر دعاؤں کے ذریعہ حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے بعض افراد میں بوجہ اس کے کہ انہیں ہمیشہ امن کے ساتھ رہنے کی تعلیم دی جاتی ہے کچھ بزدلی پیدا ہو گئی ہے حالانکہ یہ نیکی نہیں کہ بزدل ہو کر انسان امن کو قائم رکھے۔بزدل ہو کر کون امن سے نہیں رہتا۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ کیسا بیوقوف ہے وہ انسان جو کسی خضی کی نسبت یہ کہے کہ وہ بڑا پاکباز ہے یا اندھے کے متعلق کہے کہ وہ بڑا پاک نظر ہے۔اس کی تو نظر ہی نہیں وہ پاک نظر کس طرح ہو گیا۔اسی طرح بزدل پر امن کیونکر ہو سکتا ہے وہ تو بزدلی کی وجہ سے فساد کر ہی نہیں سکتا۔پر امن وہی ہے جو مارنے کی طاقت رکھتا اور پھر امن سے رہتا ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کا ایک طبقہ امن کی تعلیم سن سن کر بزدل ہو گیا ہے اور تو کل و تقدیر کے مقام کو بھول