خطبات محمود (جلد 23) — Page 277
خطبات محمود 277 * 1942 کوئی انسان زبان پر مصری کی ڈلی رکھ کر اسے کہے کہ وہ نمک چکھے تو وہ کبھی نہ چکھے گی۔وہ میٹھے کو نمک کبھی نہیں بتا سکتی۔مگر کوئی انسان اگر اسے کہے کہ کہہ خدا نہیں ہے تو وہ کہہ دیتی ہے کہ خدا نہیں ہے۔اتنی چھوٹی سی بات وہ نہیں مانتی اور اتنی بڑی مان لیتی ہے اور یہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے اسی طرح قانون مقرر کر دیا ہے۔جب کوئی زبان یہ کہہ رہی ہوتی ہے کہ خدا کوئی نہیں تو وہ اس وقت بھی خدا کی خدائی کا اقرار کر رہی ہوتی ہے کیونکہ اس کی دی ہوئی طاقت سے وہ چل رہی ہوتی ہے۔انسان کی زندگی مختلف دائروں میں چلتی ہے جس حد تک اللہ تعالیٰ نے اسے آزادی دی ہے اس حد تک وہ آزاد ہے مگر جب وہ دخل دیتا ہے تو وہ آزادی ختم ہو جاتی ہے۔دنیا میں طاعون اور ہیضہ کے جراثیم ہر انسان پر اثر کرتے ہیں مگر جب خدا تعالیٰ کہہ دیتا ہے کہ اثر نہیں کرنا تو وہ بیکار ہو جاتے ہیں اور آزادی چھن جاتی ہے اور جب وہ حکم دیتا ہے تو اسی چیز سے دوسرے خواص ظاہر ہونے لگتے ہیں۔زہر میں ہلاک کرنے کی تاثیر اللہ تعالیٰ نے رکھی ہے مگر کبھی وہ تریاق کا کام بھی دیتا ہے، پانی تریاق بھی ہے مگر کبھی وہ زہر بن جاتا ہے۔بعض اوقات انسان زہر کھاتا ہے تو بجائے ہلاک ہونے کے اس کی طاقتیں بڑھ جاتی ہیں مگر بعض اوقات وہ پانی کا ایک گھونٹ پیتا ہے تو ہیضہ کا شکار ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے بے شک حد بندیاں مقرر کی ہیں مگر جب وہ دخل دیتا ہے تو وہ سب حد بندیاں ختم ہو جاتی ہیں۔پس مومن وہی ہے جو اس حکمت کو سمجھ کر خدا تعالیٰ کے تصرف کو تسلیم کرے اور جب تک وہ ایسانہ کرے کبھی بھی کامل مومن نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ نے مختلف دائرے مقرر کر کے حکم دیا ہے کہ ان میں اس طرح عمل کرو۔جہاں اس نے آزادی دی ہے وہاں اس نے یہ بھی مقدر کر دیا ہے کہ اسباب سے کام لو۔مگر تقدیر کو نہ بھولنا مگر جہاں تقدیر کا حکم ہے وہاں فرمایا ہے کہ تو کل کرو مگر اسباب کو بھی نہ بھولنا۔دونوں بیک وقت چلتے ہیں اور اللہ تعالیٰ دونوں کے مطابق چلنے والوں کو بارور کرتا ہے۔جہاں اس نے انسان کو اختیار دیا ہے وہاں تقدیر بھی ساتھ لگائی ہے۔کھانے پینے، پہننے میں آزادی دی ہے مگر ساتھ دعائیں بھی سکھائی ہیں۔اس کا یہ قانون ہے کہ کھانا کھانے سے پیٹ بھر تا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی حکم دیا ہے کہ کھانا کھانے یا پانی پینے سے پہلے بسم اللہ کہہ لو۔جس کے معنی یہ ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کی مدد چاہتا ہوا کھانا کھاتا یا پانی پیتا ہوں۔یہ انسان کی