خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 194

194 $1942 (17) خطبات محمود ہر بات کے لئے اسلام نے جو قانون مقرر کیا ہے اس کی پابندی کرنی چاہئے فرمودہ 12 جون 1942ء) تشہد، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔”دنیا میں جب سے انسان اکٹھے رہنے لگے ہیں۔انہوں نے اپنے لئے کچھ قوانین بنانے کی کوشش کی ہے۔کوئی ملک ہو، کوئی قوم ہو خواہ وہ تمدن کے اعلیٰ مقام پر ہو اور خواہ تمدن کے ادنیٰ مقام پر ہو اس میں کوئی نہ کوئی قانون جاری ہو تا ہے حتی کہ جن قوموں میں حکومت نہیں پائی جاتی بلکہ طوائف الملو کی پائی جاتی ہے۔ان میں بھی رسم و رواج کے طور پر کوئی نہ کوئی قانون ضرور ہوتا ہے مثلاً اس زمانہ میں ہندوستان کی سرحد پر بعض قبائل ہیں جن کا کوئی بادشاہ نہیں۔ہر شخص آزاد ہے اور اپنی مرضی سے جو چاہے کرتا ہے مگر ان میں بھی بعض قانون، رسم و رواج کے طور پر مقرر ہیں۔مثلاً اگر کوئی قتل ہو جائے تو دستور مقرر ہے کہ کس طرح بدلہ لیا جائے ، خاص خاص رشتہ داروں کو بدلہ لینے کا حق ہے، جھگڑے چکانے کے لئے پنچایتیں ہوتی ہیں، کچھ دستور اور رواج ہیں۔جن کے مطابق وہ باہمی فیصلہ کرا دیتے ہیں۔ایک زمانہ میں عرب میں بھی طوائف الملو کی تھی۔باہمی جھگڑے پکانے کے لئے کچھ انتظامات تھے۔مکہ کا کوئی بادشاہ تو نہ تھا مگر وہاں بھی لوگوں کے لئے کچھ قوانین مقررتھے مثلاً یہ کہ جب کوئی شخص کسی ایسے شخص کو جسے قوم قومی مجرم قرار دیتی تھی۔پناہ دے دیتا تو جب تک اس شخص کے ساتھ تصفیہ نہ کیا جائے جس نے اسے پناہ دی ہے اس وقت تک لوگ اسے دکھ نہ دیتے تھے اور اس کی