خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 195

$1942 195 خطبات محمود آزادی میں روک نہ ڈالی جاتی تھی۔عام طور پر تو کوئی قانون وہاں نہ تھا مگر رسما بعض ایسے قوانین رائج تھے۔جب اسلام ظاہر ہوا تو مکہ کے لوگوں نے مسلمانوں کو قومی مجرم قرار دے دیا تھا اور اس وجہ سے ان کو مارنا، دکھ دینا حتی کہ قتل کر دینا ان کے نزدیک کوئی بُری بات نہ تھی۔اسی سلسلہ میں جب کفار نے مسلمانوں کو زیادہ تکالیف دینا شروع کیں تو حضرت ابو بکر نے خیال کیا کہ مکہ سے باہر کسی دوسرے قصبہ یا گاؤں میں چلا جاؤں۔چنانچہ وہ تیار ہو کر باہر جارہے تھے کہ مکہ کا ایک رئیس انہیں رستہ میں ملا اور کہا کہ ابو بکر کہاں جاتے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ اب اس شہر میں میرے لئے رہنا مشکل ہو گیا ہے۔لوگ اس قسم کے دکھ اور تکالیف دیتے ہیں کہ آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرنا مشکل ہو گیا ہے۔اس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی اور جگہ جار ہوں۔اس نے کہا کہ تمہارے جیسے نیک آدمی کا مکہ کو چھوڑ کر جانا مکہ کے لئے عذاب ہے۔میں تمہاری ذمہ داری لیتا ہوں تم باہر نہ جاؤ۔اس کے کہنے سے حضرت ابو بکر واپس آگئے اور اس رئیس نے خانہ کعبہ میں آکر اعلان کر دیا کہ لوگو آج سے ابو بکر میری ذمہ داری میں ہے۔اس کا اعلان کرنا تھا کہ ان کے رسمی قانون کے مطابق باوجود اس کے کہ دوسرے مروجہ قانون کے مطابق مسلمان واجب القتل سمجھے جاتے تھے کسی کا حق نہ تھا کہ حضرت ابو بکر کو کچھ کہہ سکے۔اس کے بعد حضرت ابو بکر مکہ میں رہنے لگے مگر وہ ہر روز اپنے گھر میں اونچی اونچی آواز سے قرآن پڑھتے اور اس سوز و گداز سے پڑھتے کہ نوجوان اور عور تیں سنتے تو یہ اثر محسوس کرتے کہ باتیں تو بہت اچھی ہیں۔جب لوگوں نے یہ دیکھا کہ حضرت ابو بکڑ کے قرآن پڑھنے سے ان کے نوجوان اور عورتیں متاثر ہوتے ہیں تو وہ اس رئیس کے پاس پہنچے اور کہا کہ تم نے ابو بکر کو پناہ دی تھی مگر وہ اونچی آواز سے قرآن پڑھتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں اور عورتوں کے ایمان خراب ہونے لگے ہیں۔یہ بات سن کر وہ رئیس حضرت ابو بکر کے پاس آیا اور کہا کہ آپ اونچی آواز سے اپنی کتاب پڑھتے ہیں اور اس میں ایسا جادو ہے کہ دوسروں کے ایمان خراب ہونے کا ڈر ہے اور لوگ شکایت کرتے ہیں اس لئے آپ اونچی آواز سے نہ پڑھا کریں۔حضرت ابو بکر نے کہا کہ میں ایسی پناہ لینے کو تیار نہیں جس میں کہ مجھے اپنے ایمان اور عقائد کو چھپانا پڑے۔میں آپ کی یہ شرط نہیں مان سکتا۔آپ اپنی ضمانت واپس لے