خطبات محمود (جلد 23) — Page 137
* 1942 137 خطبات محمود دے سکتے ہیں اسی طرح لاہور، گوجرانوالہ ، شیخوپورہ اور امر تسر مل کر ایک ہزار دے سکتے ہیں۔پس بجائے اس کے کہ باہر کی جماعتیں عورتوں اور بچوں کو یہاں بھیج کر خطرہ کو بڑھائیں یہ فیصلہ کریں کہ اگر خطرہ کا وقت آیا تو وہ کتنے مرد قادیان کی حفاظت کے لئے یہاں بھجوائیں گے۔میں یہ تو نہیں کہتا کہ اس وقت میرے سامنے جو لوگ بیٹھے ہیں وہ سب کے سب مومن ہیں لیکن میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ شعائر اللہ کی حفاظت کا اگر موقع آیا تو ایک بھی مومن پیچھے نہ ہٹے گا اور اس انصاری 2 کی طرح جس کا ذکر میں نے 17 اپریل کے خطبہ میں کیا تھا، ہم میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ جب تک دشمن ہماری لاشوں پر سے نہ گزرے وہ شعائر اللہ تک نہ پہنچ سکے گا۔اس میں بوڑھے اور بچے کا بھی کوئی فرق نہیں۔بوڑھے اور بچے بھی ایمان کے ماتحت شاندار قربانیاں کر سکتے ہیں بلکہ بوڑھا تو موت کے زیادہ قریب ہوتا ہے اور ہمارا فرض یہی ہے کہ ہم شعائر اللہ کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں لڑا دیں۔اس کے بعد ہماری ذمہ واری ختم ہو جائے گی اور مجھے یقین ہے کہ جماعت کے مومن خواہ وہ یہاں ہوں یا باہر۔وہ اس فرض کو ادا کرنے سے کبھی پیچھے نہ ہٹیں گے۔ہاں جو منافق یا کمزور ہیں ان کی بات علیحدہ ہے۔ایسے لوگ رسول کریم صلی علیم کے زمانہ میں بھی شور مچاتے رہتے تھے اور آج بھی مچاتے ہیں مگر ان کی کوئی پر واہ نہیں کرنی چاہئے۔پس دوستوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ قادیان کی حفاظت ان کا بھی ویساہی فرض ہے جیسا یہاں رہنے والوں کا اور اگر اس کا موقع آیا تو وہ غفلت نہ کریں گے۔اور اگر وہ اپنی طرف سے غفلت نہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی کمزوریوں پر پردہ ڈال دے گا اور جو جو کام ان کی طاقت سے باہر ہو گا اسے خود کر دے گا۔غرض میری جلسہ سالانہ کی تقریر کا مطلب غلط سمجھا گیا ہے۔میرا یہ مطلب نہ تھا کہ صرف عورتوں اور بچوں کو یہاں بھجوا دیا جائے بلکہ یہ تھا کہ ساتھ مرد بھی ہوں۔کثرت کے ساتھ عورتوں اور بچوں کو یہاں بھیج دینے کا ایک نتیجہ تو یہ ہوا ہے کہ مکانوں کی سخت دفت محسوس ہو رہی ہے بلکہ پہلے سے رہنے والوں کو بھی تکلیف ہوئی ہے اور دوسری طرف قادیان کی حفاظت کا سوال بھی خطر ناک ہو گیا ہے۔میں نے جو کہا ہے اس سے یہ مطلب نہیں کہ ضرور کوئی خطرہ ہے۔البتہ افواہیں بہت پھیل رہی ہیں اور افواہوں میں لوگ بہت مبالغہ سے