خطبات محمود (جلد 23) — Page 136
* 1942 136 خطبات محمود معمولی کچے مکان بنالینے چاہئیں اور جو لوگ اتنی معمولی تکلیف بھی نہیں اٹھا سکتے وہ اپنے اپنے شہروں میں رہیں۔پس جو شخص اس وقت کرایہ پر کسی مکان میں رہتے ہیں وہ اگر نظارت امور عامہ کا فیصلہ کردہ کرایہ ادا کریں تو انہیں مکان سے نکالنے کی ہر گز اجازت نہیں خواہ دس گنا زیادہ کرایہ کیوں نہ ملے اور خواہ پانچ کے بجائے پچاس روپیہ کوئی دوسرا دینے والا کیوں نہ ہو اور جو لوگ دھوکا یا بہانہ سے کسی کو اپنے مکان سے نکالیں ان کا علاج بھی میں نے بتا دیا ہے۔ایک پہلو رہ گیا ہے اور وہ یہ کہ بعض لوگ معاہدات کر لیتے ہیں کہ مثلاً دو یا تین سال تک مکان خالی نہ کرایا جاسکے گا۔ایسے معاہدات کی بھی پابندی کی جانی چاہئے۔یہ مومن کی شان نہیں کہ چند پیسوں کے لئے معاہدہ کی خلاف ورزی کرے۔اس کے بعد میں ایک اور بات کہنا چاہتا ہوں اور جو قادیان سے ہی تعلق رکھنے والی ہے اور اسی کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے۔جلسہ سالانہ کے موقع پر میں نے اس بات کی طرف توجہ دلائی تھی کہ خطرہ کے وقت جو احمدی مرد اور عورتیں اپنے کو خطرہ میں محسوس کریں وہ قادیان آجائیں مگر ہو یہ رہا ہے کہ لوگ عورتوں اور بچوں کو یہاں بھیجتے جاتے ہیں اور خود باہر ہیں جیسا کہ میں نے بتایا تھا قادیان دنیوی نقطہ نگاہ سے غیر محفوظ مقام ہے۔اس لئے میں باہر کی جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی اپنی جگہ فیصلہ کر کے اطلاع دیں کہ اگر کسی وقت خطرہ محسوس ہو تو وہ قادیان کی حفاظت کے لئے کتنے کتنے مرد بھیج سکیں گے۔پنجاب کی سب جماعتیں جلد سے جلد اس کا فیصلہ کر کے اطلاع دیں۔یہاں ہماری مقدس عمارتیں اور شعائر اللہ ہیں اور ان کی حفاظت صرف قادیان والوں کا ہی فرض نہیں بلکہ سب جماعت احمدیہ کا ہے۔دور دور کی جماعتوں سے تو میں فی الحال نہیں کہتا لیکن پنجاب کی سب جماعتیں اس کے متعلق فیصلہ کر کے جلدی اطلاع دیں۔ضلع گورداسپور میں ہی احمدیوں کی تعداد پچیس تیس ہزار کے قریب ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ کم سے کم پانچ ہزار مرد ضرور ہیں اور اس وجہ سے اس ضلع سے ڈیڑھ ہزار آدمی بآسانی مل سکتے ہیں۔سیالکوٹ کا ضلع بھی ایک ہزار کے قریب دے سکتا ہے۔ہوشیار پور اور جالندھر کے اضلاع مل کر ایک ہزار آدمی