خطبات محمود (جلد 23) — Page 461
$1942 461 خطبات محمود نہیں۔میں اس کے متعلق کوئی خاص تحریک نہیں کر رہا جیسے تحریک جدید ہے۔صرف یہ کہتا ہوں کہ جن کو اللہ تعالیٰ توفیق دے وہ اس رنگ میں مدد کریں اور اگر وہ اس میں حصہ لیں تو یقیناً اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کر سکتے ہیں۔تحریک جدید کے نوجوانوں کو بھی اگر ضرورت ہو تو اس کام میں لگایا جاسکتا ہے۔گو یہ ان کی تعلیم کا زمانہ ہے۔اس لئے دوسرا کوئی زیادہ کام ان کو نہ کرنا چاہئے۔باقی دوستوں میں سے جن کو توفیق ہو وہ چٹھیاں لکھنے ، ان کے تراجم کرنے ، جوابات کو پڑھنے اور دوسرے دفتری کام کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں۔اس سلسلہ میں دفتری کام کافی ہو گا جن کی طرف سے جواب نہ آئے ان کو یاد دہانی کرنی ہو گی اور بار بار کرنی ہو گی۔پس میں دوستوں کو عام رنگ میں اس کی تحریک کرتا ہوں۔شاید اللہ تعالیٰ ایسا دن لے آئے کہ تحریک جدید کو اسی سلسلہ میں لگایا جا سکے۔خلافت جو بلی فنڈ میں سے میں نے ابھی تبلیغ پر خرچ کرنا شروع نہیں کیا۔میرا ارادہ ہے کہ اس سے آمد شروع ہو جائے تو پھر کیا جائے۔تعلیمی وظائف اگرچہ شروع کر دیئے ہیں مگر تبلیغی اخراجات ابھی اس سے شروع نہیں کئے اور چاہتا ہوں کہ آمد کی صورت پید ا ہو جائے تو پھر یہ اخراجات اس سے کئے جائیں۔سر دست یہی تحریک کرتا ہوں کہ جو دوست خواہش رکھتے ہیں کہ تبلیغ کے کام میں اور زیادہ حصہ لیں وہ اس طرف توجہ کریں اور “الفضل ” خطبہ نمبر یا سن رائز ” کے جتنے پر چے جاری کر اسکتے ہوں کرائیں۔امداد دینے والے دوست اپنے نام میرے سامنے پیش کریں، میں خود تجویز کروں گا کہ کن لوگوں کے نام یہ پرچے جاری کرائے جائیں۔پھر اس سلسلہ میں اور جو دوست خدمت کے لئے اپنا نام پیش کرنا چاہیں وہ بھی کر دیں۔ان کے ذمہ کام لگا دیئے جائیں گے مثلاً یہ کہ فلاں قسم کے خطوط فلاں کے پاس جائیں اور ان کے جواب بھی وہ لکھیں۔اس کام کی ابتدا کرنے کے لئے میں نے ایک خط لکھا ہے جو پہلے اردو اور انگریزی میں اور اگر ضرورت ہوئی تو دوسری زبانوں میں بھی ترجمہ کرا کے دنیا کے بادشاہوں اور ہندوستان کے راجوں مہاراجوں کی طرف بھیجا جائے گا۔اس قسم کے خطوط بھی وقتا فوقتا جاتے رہیں مگر اصل چیز الفضل کا خطبہ نمبر یا سن رائز ہے جو ہر ہفتہ ان کو پہنچتار ہے اور چونکہ خطبہ کے متعلق مسنون طریق یہی ہے کہ وہ اہم امور پر مشتمل ہو اس لئے اس میں سب