خطبات محمود (جلد 23) — Page 462
* 1942 462 خطبات محمود مسائل پر بحشیں آجاتی ہیں۔اس میں سلسلہ کے مسائل بھی ہوتے ہیں۔جماعت کو قربانی کی طرف بھی توجہ دلائی جاتی ہے اور مخالفتوں کا ذکر بھی ہوتا ہے اور اس طرح جس شخص کو ہر ہفتہ یہ خطبہ پہنچتا ہے۔احمدیت گویا ٹنگی ہو کر اس کے سامنے آتی رہے گی اور وہ بخوبی اندازہ کر سکتا ہے کہ اس جماعت کی امنگیں اور آرزوئیں کیا ہیں، کیا ارادے ہیں، یہ کیا کرنا چاہتے ہیں، دشمن کیا کہتا ہے اور یہ کس رنگ میں اس کا مقابلہ کرتے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں۔اگر اس رنگ میں کام شروع کیا جائے تو ایک شور بچ سکتا ہے۔اگر دو ہزار آدمی بھی ایسے ہوں جن کے پاس ہر ہفتہ ، سلسلہ کا لٹریچر پہنچتا ہے تو بہت اچھے نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے۔ان لوگوں کو چٹھیاں بھی جاتی ہیں اور ان سے پوچھا جائے کہ آپ ہمارا لٹریچر مطالعہ کرتے ہیں یا نہیں۔اگر کوئی کہے نہیں تو اس سے پوچھا جائے کیوں نہیں۔یہ پوچھنے پر بعض لوگ لڑیں گے اور یہی ہماری غرض ہے کہ وہ لڑیں یا سوچیں۔جب کسی سے پوچھا جائے گا کہ کیوں نہیں پڑھتے تو وہ کہے گا کہ یہ پوچھنے سے تمہارا کیا مطلب ہے۔تو ہم کہیں گے کہ یہ پوچھنا ضروری ہے کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کی آواز ہے جو آپ تک پہنچائی جارہی ہے۔اس پر وہ یا تو کہے گاسنالو اور یا پھر کہے گا کہ میں نہیں مانتا اور جس دن کوئی کہے گا کہ جاؤ میں نہیں مانتا۔اسی دن سے وہ خدا تعالیٰ کا مد مقابل بن جائے گا اور ہمارے رستہ سے اٹھا لیا جائے گا۔جن لوگوں تک یہ آواز ہم پہنچائیں گے ان کے لئے دو ہی صورتیں ہوں گی۔یا تو ہماری جو رحمت کے فرشتے ہیں سنیں اور یا پھر ہماری طرف سے منہ موڑ کر خدا تعالیٰ کے عذاب کے فرشتوں کی تلوار کے آگے کھڑے ہو جائیں۔مگر اب تو یہ صورت ہے کہ نہ وہ ہمارے سامنے ہیں اور نہ ملائکہ عذاب کی تلوار کے سامنے بلکہ آرام سے اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں۔نہ تو وہ اللہ تعالیٰ کی تلوار کے سامنے آتے ہیں کہ وہ انہیں فنا کر دے اور نہ اس کی محبت کی آواز کو سنتے ہیں کہ ہدایت پا جائیں۔اب تو وہ ایک ایسی چیز ہیں جو اپنے مقام پر کھڑی ہے اور وہاں سے ملتی نہیں لیکن نئی تعمیر کے لئے یہ ضروری ہے کہ اسے وہاں سے ہلایا جائے۔یا تو وہ ہماری طرف آئے اور یا اپنی جگہ سے ہٹ جائے۔یہ کام تحریک جدید کے پروگرام کا ایک حصہ ہے۔تحریک جدید کی موجودہ شکل کے اب دو سال باقی رہ گئے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان دو سالوں میں اس کام کی بنیاد شروع کی جا سکتی ہے تا جس وقت تک