خطبات محمود (جلد 23) — Page 460
* 1942 460 خطبات محمود یا پھر مخالفت شروع کر دیں مثلاً ایک چٹھی بھیج دی، پھر کچھ دنوں کے بعد اور بھیجی، پھر کچھ انتظار کے بعد اور بھیج دی۔جس طرح کوئی شخص کسی حاکم کے پاس فریاد کرنے کے لئے ا چٹھی لکھتا ہے مگر جواب نہیں آتا تو اور لکھتا ہے پھر وہ توجہ نہیں کرتا تو ایک اور لکھتا ہے حتٰی کہ وہ افسر توجہ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔پس تکرار کے ساتھ علماء، امراء، رؤسا، مشائخ نیز راجوں مہاراجوں، نوابوں اور بیرونی ممالک کے بادشاہوں کو بھی چٹھیاں لکھی جائیں۔اگر کوئی شکریہ ادا کرے تو اس پر خوش نہ ہو جائیں اور پھر لکھیں کہ ہمارا مطلب یہ ہے کہ آپ اس کی طرف توجہ کریں۔جواب نہ آئے تو پھر چند روز کے بعد اور لکھیں کہ اس طرح آپ کو خط بھیجا گیا تھا مگر آپ کی طرف سے اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔پھر کچھ دنوں تک انتظار کے بعد اور لکھیں حتی کہ یاتو بالکل وہ ایساڈھیٹ ہو کہ اس کے دل پر مہر لگی ہوئی ہے اور اس کی طرف سے اس کے سیکرٹری کا جواب آئے کہ تم لوگوں کو کچھ تہذیب نہیں، بار بار دق کرتے ہو ، راجہ صاحب نے یا پیر صاحب نے خط پڑھ لیا اور وہ جواب دینا نہیں چاہتے اور یا پھر اس کی طرف سے یہ جواب آئے کہ آؤ جو سنانا چاہتے ہو ، سنالو۔اس رنگ میں تبلیغ کے نتیجہ میں کچھ لوگ غور کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے مگر اس وقت تو یہ حالت ہے کہ غور کرتے ہی نہیں۔پس اب اس رنگ میں کام شروع کرنا چاہئے۔اس کے لئے ضرورت ہے ایسے مخلص کارکنوں کی جو اپنا وقت اس کام کے لئے دے سکیں۔بہت سی چٹھیاں لکھنی ہوں گی ، چٹھیاں چھپی ہوئی بھی ہو سکتی ہیں مگر پھر بھی ان کو بھیجنے کا کام ہو گا۔اگر جواب آئے تو ان کا پڑھنا اور پھر ان کے جواب میں بعض چٹھیاں دستی بھی لکھنی پڑیں گی۔بعض چٹھیوں کے مختلف زبانوں میں تراجم کرنے ہوں گے اور یہ کافی کام ہو گا۔اس کے لئے جن دوستوں کو اللہ تعالیٰ توفیق دے وہ اس کام میں مدد دیں۔پھر جو دوست الفضل کا خطبہ نمبر اور سن رائز دوسروں کے نام جاری کرا سکیں وہ اس رنگ میں مدد دیں۔اگر الفضل کا خطبہ نمبر اور سن رائز ہزار ہزار بھی فی الحال بھجوانا شروع کر دیں تو اس پر چھ ہزار روپیہ خرچ کا اندازہ ہے اور یہ کوئی ایسا خرچ نہیں۔جماعت کے افراد خدا تعالیٰ کے فضل سے اسے آسانی سے برداشت کر سکتے ہیں۔اگر جوش اور اخلاص کے ساتھ کام کیا جائے تو بہت فائدہ ہو سکتا ہے اور اس تبلیغ کے زمانہ میں اس طرح کام کرنے کے سوا کوئی چارہ