خطبات محمود (جلد 23) — Page 407
* 1942 407 خطبات محمود جن میں سے بعض کو یہاں سے مقرر کیا گیا تھا اور بعض کو وہاں کی جماعتوں نے اپنا مبلغ بنالیا تھا۔ان تمام مبلغین کے متعلق نہ ہمیں کوئی خبر ہے نہ اطلاع۔اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم ان سب کو اپنی اپنی دعاؤں میں یا درکھیں کیونکہ وہ ہماری طرف سے ان ممالک میں تبلیغ اسلام کے لئے گئے تھے۔اللہ تعالیٰ نے بعض باتوں کو فرض کفایہ قرار دیا ہے اور تبلیغ بھی انہی میں سے ایک ہے یعنی اگر قوم میں سے کوئی شخص بھی تبلیغ نہ کرے تو ساری قوم گنہگار اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کی مورد ہو گی لیکن اگر کچھ لوگ تبلیغ کے لئے کھڑے ہو جائیں تو باقی قوم گنہگار نہیں ہو گی۔پس اگر یہ لوگ تبلیغ کے لئے غیر ممالک میں نہ جاتے تو احمد یہ جماعت اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں گنہگار ٹھہرتی اور وہ اس کے عذاب کی مورد بن جاتی۔کیونکہ وہ کہتا کہ اس قوم نے تبلیغ کو بالکل ترک کر دیا ہے جیسے مسلمانوں کی حالت ہے کہ جب انہوں نے فریضہ تبلیغ کی ادائیگی میں کو تاہی سے کام لیا اور ان میں ایسے لوگ نہ رہے جو اپنے وطنوں کو چھوڑ کر اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر اور اپنے آرام و آسائش کے سامانوں کو چھوڑ کر غیر ممالک میں جائیں اور لوگوں کو داخل اسلام کریں تو وہ موردِ عذاب بن گئے۔پس جن لوگوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کو اپنی خاص رحمتوں کا مورد بنایا ہوا ہے یقیناً ان کا حق ہے کہ ہم انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ان کے لئے دعا کرنا اپنی ذاتی دعاؤں پر مقدم سمجھیں اور متواتر الحاح اور عاجزی سے ان کی صحت اور سلامتی اور ان کے رشتہ داروں کی صحت اور سلامتی کے لئے دعائیں کریں۔اسی طرح اور بہت سے مبلغ ہیں جن کی قربانیوں کا صحیح اندازہ ہماری جماعت کے دوست نہیں لگا سکتے۔بالخصوص دو مبلغ تو ایسے ہیں جو شادی کے بہت تھوڑا عرصہ بعد ہی تبلیغ کے لئے چلے گئے اور اب تک باہر ہیں۔ان میں سے ایک دوست تو نو سال سے تبلیغ کے لئے گئے ہوئے ہیں۔حکیم فضل الرحمان صاحب ان کا نام ہے۔انہوں نے شادی کی اور شادی کے تھوڑے عرصہ کے بعد ہی انہیں تبلیغ کے لئے بھجوا دیا گیا۔وہ ایک نوجوان اور چھوٹی عمر کی بیوی کو چھوڑ کر گئے تھے مگر اب وہ آئیں گے تو انہیں ادھیڑ عمر کی بیوی ملے گی۔یہ قربانی کوئی معمولی قربانی نہیں۔میرے نزدیک تو کوئی نہایت ہی بے شرم اور بے حیا ہی ہو سکتا ہے جو اس قسم کی قربانیوں کی قیمت کو نہ سمجھے اور انہیں نظر انداز کر دے۔اسی طرح مولوی جلال الدین صاحب شمس ہیں۔