خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 408

* 1942 408 خطبات محمود انہوں نے بڑی عمر میں شادی کی اور دو تین سال بعد ہی انہیں تبلیغ کے لئے بھیج دیا گیا۔ان کے ایک بچے نے اپنے باپ کو نہیں دیکھا اور باپ نہیں جانتا کہ میر ابچہ کیسا ہے سوائے اس کے کہ تصویروں سے انہوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا ہو۔وہ بھی کئی سال سے باہر ہیں اور اب تو لڑائی کی وجہ سے ان کا آنا اور بھی مشکل ہے۔قائمقام ہم بھیج نہیں سکتے اور خود وہ آنہیں سکتے کیونکہ راستے مخدوش ہیں۔اس لئے ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ کب واپس آئیں گے لڑائی ختم ہو اور حالات اعتدال پر آئیں تو اس کے بعد ان کا آنا ممکن ہے اور نہ معلوم اس میں ابھی اور کتنے سال لگ جائیں۔ان لوگوں کی ان قربانیوں کا کم سے کم بدلہ یہ ہے کہ ہماری جماعت کا ہر فرد دعائیں کرے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔اور ان کے اعزہ اور اقرباء پر بھی رحم فرمائے۔میں تو سمجھتا ہوں جو احمدی ان مبلغین کو اپنی دعاؤں میں یاد نہیں رکھتا اس کے ایمان میں ضرور کوئی نقص ہے اور مجھے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے ایمان میں خلل واقع ہو چکا ہے۔اسی طرح اور بھی کئی مبلغین ہیں جن کی قربانی گو اس حد تک نہیں مگر پھر بھی وہ سالہا سال سے اپنے اعزہ اور رشتہ داروں سے دور ہیں اور قسم قسم کی تکالیف برداشت کر رہے ہیں۔ان مبلغین میں سے مغربی افریقہ کے دو مبلغ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ایک مولوی نذیر احمد صاحب (ابن بابو فقیر علی صاحب) اور دوسرے مولوی محمد صدیق صاحب۔یہ لوگ ایسے علاقوں میں ہیں جہاں سواریاں مشکل سے ملتی ہیں۔کھانے پینے کی چیزیں بھی آسانی سے میسر نہیں آتیں، رستہ میں کبھی ستو پھانک کر گزارہ کر لیتے ہیں اور کبھی کوئی پھل کھا لیتے ہیں پھر انہیں سینکڑوں میل کے دورے کرنے پڑتے ہیں اور ان دوروں کا اکثر حصہ وہ پیدل طے کرتے ہیں۔یہ قربانیاں ہیں جو سالہا سال سے یہ لوگ کر رہے ہیں۔چیف اور رؤساء ان کا مقابلہ کرتے ہیں۔بعض دفعہ ( گو ہمیشہ نہیں) گورنمنٹ بھی ان کے راستہ میں روڑے اٹکاتی ہے عام پبلک اور مولوی بھی مقابلہ کرتے رہتے ہیں لیکن ان تمام روکوں کے باوجود وہ مختلف علاقوں میں جماعتیں قائم کرتے اور خانہ بدوشوں کی طرح دین کی اشاعت کے لئے پھرتے رہتے ہیں۔یہ لوگ ایسے نہیں کہ جماعت ان کی قربانیوں کے واقعات کو تسلیم کرنے سے انکار کر سکے۔میں “ قربانیوں کے واقعات کو تسلیم ” کی بجائے “ ان کے احسانات کو تسلیم کرنے ” وو