خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 381

* 1942 381 خطبات محمود کہاں لگتا ہے اور کہاں نہیں لگتا۔اسی طرح فرماتے تھے وضو بھی ایک ابتلاء ہے۔سخت سردی میں جب انسان وضو کرتا ہے تو لازماً اسے تکلیف ہوتی ہے مگر اسے اختیار ہوتا ہے کہ اگر چاہے تو پانی گرم کرلے اور اس طرح اس تکلیف کی شدت کو اپنے لئے کم کر لے لیکن ایک اور ابتلا ایسا ہوتا ہے جس میں بندے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔تے بیماری آتی ہے اور اس کے کسی بچے کو چمٹ جاتی ہے یا اسے اپنی بیوی سے بڑی محبت ہوتی ہے مگر وہ سخت بیمار ہو جاتی ہے یا بیوی کو خاوند سے بڑی محبت ہوتی ہے اور وہ کسی مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔یہ ابتلا ایسا ہے جو اس کے اختیار سے باہر ہوتا ہے اور اس کی چوٹ ایسی سخت ہوتی ہے کہ مدتوں تک اسے تڑپاتی رہتی ہے۔پھر آپ فرمایا کرتے کہ در حقیقت یہی ابتلا انسان کے ایمان کی آزمائش کا ذریعہ ہوتے ہیں اور اسی وقت معلوم ہوتا ہے کہ کون اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان رکھتے اور کون سچا ایمان نہیں رکھتے۔جس وقت اس قسم کے مصائب اور ابتلا آتے ہیں اللہ تعالیٰ یہ نہیں دیکھتا کہ اب دن ہے یارات یالوگوں کے آرام کرنے کا وقت ہے یا کام کرنے کا ، مثلاً گزشتہ دنوں سیلاب آئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں دیکھا کہ ہڑ رات کو آیا ہے یا دن کو۔کام کے وقت تو تم کہہ دیتے ہو کہ ایسا وقت مقرر کرو جب سورج اونچا نہ آیا ہو اور خدام آپس میں مشورہ کر کے اعلان کر دیتے ہیں کہ چونکہ سخت گرمی پڑ رہی ہے اس لئے علی الصبح کام شروع کر دیا جائے گا اور آٹھ یا نو بجے بند کر دیا جائے گا۔پھر کچھ لوگ کوزے لے کر ادھر اُدھر دوڑتے پھرتے ہیں کہ کسی کو پیاس لگی ہو تو وہ پانی پی لے۔ایک ڈاکٹر پٹیاں اور ضروری سامان لے کر بیٹھا ہوتا ہے کہ اگر کسی کو کوئی چوٹ لگ جائے تو اس کی مرہم پٹی کر دی جائے۔غرض جس قدر سہولت کے سامان تمہیں میسر آ سکتے ہیں تم ان سے کام لیتے ہو لیکن جس وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے سیلاب آجائے تو اس وقت خدام الاحمدیہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ دریائے راوی کو تھوڑی دیر کے لئے روک لیا جائے، ابھی ہمارے خدام بیدار نہیں ہوئے یا نو بجے کے بعد سیلاب آنا بند ہو جائے کیونکہ اس کے بعد لڑکوں نے سکول جانا ہے۔جس وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی عذاب آتا ہے اس وقت وہ نہ دن دیکھتا ہے ، نہ رات اور لوگوں کا بھی فرض ہوتا ہے کہ قطع نظر اس سے کہ اس وقت رات ہو یا دن ایک دوسرے کی مدد کے لئے اٹھ کھڑے ہوں اور در حقیقت خدام الاحمدیہ کا