خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 380

$1942 380 خطبات محمود ایک موقع پیدا ہوا تھا جس میں اگر وہ چاہتے تو کوشش کر کے کامیابی حاصل کر سکتے تھے۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس امتحان میں خدام الاحمدیہ بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔تھوڑا ہی عرصہ ہو ا بڑے بڑے سیلاب آئے ہیں اور ان سیلابوں سے بڑی تباہی ہوئی ہے مگر مجھے افسوس ہے کہ جہاں تک مجھے علم ہے خدام الاحمدیہ نے اس موقع پر کوئی کام نہیں کیا اور اگر کیا ہے تو مجھے اس کا علم نہیں ہوا۔یادر کھو وہ سپاہی ملک کے لئے کبھی مفید نہیں ہو سکتا جو پریڈ تو کرتا ہے مگر لڑائی کے وقت گھر میں بیٹھ رہے۔پریڈ تو لڑائی کے لئے ہی کی جاتی ہے۔اگر کسی نے لڑائی میں شامل نہیں ہونا تو وہ پریڈ پر اپنا وقت کیوں ضائع کرتا ہے۔اس دفعہ ضلع لاہور میں ، ضلع شیخوپورہ میں اور ضلع فیروز پور میں سیلابوں سے بڑی بڑی تباہیاں آئی ہیں اور ہر جگہ مجالس خدام الاحمدیہ موجود تھیں مگر میرے پاس جو رپورٹیں آئی ہیں ان میں اس امر کا کوئی ذکر نہیں کہ اس موقع پر خدام الاحمدیہ نے لوگوں کی کیا خدمت کی ہے اور اس مصیبت کے وقت انہوں نے کس کس رنگ میں ہمدردی ظاہر کی۔حالانکہ اس موقع پر بعض ہندوؤں نے ، بعض سکھوں نے اور بعض اور اقوام کے لوگوں نے بڑی بڑی خدمت کی ہے یہاں تک کہ گورنمنٹ نے بھی تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے لوگوں کی بہت مدد کی ہے مگر مجھے یہ معلوم کر کے نہایت ہی افسوس ہوا کہ ان میں خدام الاحمدیہ کا نام نہیں تھا۔اگر ایسی مصیبت کے وقت بھی خدام الاحمدیہ لوگوں کی مدد کرنے کے لئے تیار نہیں تو پھر ہم نے ان کی پریڈوں کو کیا کرنا ہے۔یہ جو کسی کسی دن وقت مقررہ پر ہاتھ سے کام کرنا ہوتا ہے یہ سچی قربانی نہیں ہوتی۔سچی قربانی وہی ہوتی ہے جب اچانک کوئی مصیبت آجائے اور اس وقت لوگوں کی امداد کے لئے اپنی جان و مال اور آرام و آسائش کو قربان کر دیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قسم کے ابتلاء آیا کرتے ہیں۔ایک ابتلاء تو ایسا ہوتا ہے جس میں بندے کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے اوپر کوئی سزالے لے جیسے اگر کسی کو کہا جائے کہ وہ اپنے آپ کو کوڑا مارے تو لازماً وہ احتیاط سے کام لے گا۔اول تو زور سے نہیں مارے گا اور پھر کسی ایسی جگہ نہیں مارے گا جو نازک ہو اور جہاں زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہو مگر جب دوسرا شخص کوڑا مارے تو اس وقت وہ یہ نہیں دیکھے گا کہ زور سے پڑتا ہے یا ہلکا پڑتا ہے اور