خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 324

1942ء 324 خطبات محمود صد سم ہو سکتا۔ لیکن اگر وہ محمد صلی علی ایم کی کسی ایک حدیث پر ہی کسی دن عمل کر لیتا ہے تو وہ اتناہی محمد صلی اللہ یوم کے قریب ہو جاتا ہے۔ ایک شخص اپنے ہمسایوں کو دکھ دیتا ہے۔ انہیں تکلیف میں مبتلا رکھتا ہے۔ ان کے حقوق کا کوئی خیال نہیں رکھتا لیکن اپنے آپ کو مسلم مسلم کہتا رہتا ہے تو اس کے اس قول سے لوگ خوش نہیں ہوں گے۔ وہ کتنا ہی کہتا رہے کہ میں اپنے ہمسایوں کا خیر خواہ ہوں۔ ان سے محبت رکھتا ہوں ان کی تکلیفوں پر بے چین ہو جاتا ہوں اور ان کے حقوق کی ادائیگی کا خیال رکھتا ہوں۔ لوگ اس کی ان باتوں سے کبھی خوش نہیں ہو سکتے لیکن اگر وہ ایک وقت چاہے اس کے گھر میں دال ہی پکی ہوئی ہو۔ تھوڑی سی دال اپنے ہمسایہ کے گھر تحفہ کے طور پر بھیج دیتا ہے۔ تو سب اس سے خوش ہو جائیں گے اور سمجھیں گے کہ اس نے قول سے نہیں بلکہ عمل سے اپنی محبت اور خلوص کا ثبوت دیا ہے۔ یہی حال ایمان کا ہوتا ہے۔ انسان اپنے ایمان کا دن رات ڈھنڈورا پیٹتار ہے تو اسے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا لیکن اگر وہ اپنے ایمان کا ڈھنڈورا پیٹنے کی بجائے تھوڑا سا خدا تعالیٰ کی توحید پر یقین لے آتا ہے۔ تھوڑا سا محمد صلی علیه ریم کی نبوت پر یقین لے آتا ہے۔ تھوڑا سا قرآن کریم کی صداقت پر یقین لے آتا ہے تو بہت ممکن ہے یہ یقین اور ایمان اسے بہت دور تک لے جائے۔ ممکن ہے وہ تھوڑا سا یقین جو اس کے دل میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر پیدا ہوا ہے۔ اسے ایک دن بہت بڑا موحد بنادے۔ ممکن ہے کہ وہ تھوڑا سا یقین جو اس کے دل میں محمد صلی علم کی نبوت پر پیدا ہوا ہے۔ بیج کی طرح پھیلنا شروع کر دے اور کسی وقت کھیت بن کر اسے محمد صلی علم کے صحابہ کے مرتبہ تک پہنچادے۔ ممکن ہے ہے۔ کہ وہ تھوڑا سا یقین جو اس کے دل میں قرآن کریم کی صداقت پر پیدا ہوا ہے۔ کسی وقت کھیت بن کر پھیل جائے اور ایک دن ایسا آئے جبکہ وہ قرآن کریم کا عارف بن جائے لیکن اگر اس کے دل میں کوئی ایمان نہیں اور وہ منہ سے سارا دن کہتا رہتا ہے کہ میں خدا پر ایمان رکھتا ہوں ، محمد صلی العلیم پر ایمان رکھتا ہوں، قرآن کریم پر ایمان رکھتا ہوں تو اس کے نتیجہ میں کوئی کھیتی پیدا نہیں ہو گی کیونکہ کھیتی نفی سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ کسی بیج سے پیدا ہوتی ہے۔ پس ہماری جماعت کے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے اعمال میں اس امر کو مد نظر رکھا کریں کہ ان کا نام کیا رکھا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام مسلم رکھا ہے پس انہیں سوچنا چاہئے