خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 325

* 1942 325 خطبات محمود کہ کیا واقع میں وہ اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں اور کیا واقع میں وہ دنیا کے لئے امن کا موجب ہیں ؟ ہمیں تو نظر آتا ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بعض دفعہ نوجوان دوسروں پر خونی حملہ کر دیتے ہیں اور پھر دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ وہ احمدی ہیں حالا نکہ اپنے عمل سے وہ اپنے آپ کو نہ احمدی ثابت کر رہے ہوتے ہیں نہ مسلمان۔احمدیت تو اسلام کا ہی دوسرا نام ہے۔کوئی الگ مذہب نہیں۔موجودہ زمانہ میں چونکہ مسلمان حقیقت اسلام سے بیگانہ ہو چکے تھے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کا نام احمد یہ جماعت رکھ دیا تا کہ دنیا کو معلوم ہو کہ آج حقیقی اسلام کو ماننے والے دنیا میں احمدیوں کے سوا اور کوئی نہیں ورنہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ احمدیت اسلام کے سوا کوئی اور چیز ہے۔جب ہم احمدیت کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو ہمارا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ اسلام کی جو تشریح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائی ہے۔اس کو ماننے والے ہم ہیں۔یہ معنی نہیں ہوتے کہ اسلام کے سوا ہم نَعُوذُ بِاللہ کسی اور مذہب کے پیروہیں۔پس اگر کوئی شخص اپنے عمل میں تبدیلی نہیں کرتا اور وہ اس بات کو ثابت نہیں کر دیتا کہ وہ واقع میں لوگوں کا خیر خواہ ہے اور وہ خود بھی امن سے رہتا اور دوسروں کے امن میں بھی خرابی پیدا نہیں کرتا۔اس وقت تک وہ احمدی کہلا کس طرح سکتا ہے ؟ در حقیقت ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جو جماعت اور قوم کو بد نام کرنے والے ہوتے ہیں ورنہ ایک مومن کو تولوگوں کا اتنا خیر خواہ ہونا چاہئے کہ اسے ہر قسم کی تکالیف اٹھا کر دوسروں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اگر کوئی شخص اپنے نفس پر ہر قسم کی تکالیف برداشت کر کے دوسروں کو فائدہ پہنچائے تو اسے بھی کوئی نقصان نہیں ہو سکتا کیونکہ ہر شخص جو دوسرے کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ در حقیقت اپنے لئے بھی فائدے کا ایک راستہ کھولتا ہے اور جب اسے کوئی تکلیف ہوتی ہے۔دوسرے لوگ اس کو مدد دینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں گویا جب سارے لوگ اخلاق سے کام لینے والے ہوں تو کسی کو کوئی گھاٹا نہیں رہ سکتا۔مشہور واقعہ ہے کہ نپولین ایک دفعہ اپنی فوج کے ساتھ کسی دلدل میں سے گزر رہا تھا کہ اس کی فوج کے سپاہی سخت تھک گئے اور انہوں نے شکایت کی کہ اب ہم سے چلا نہیں جاتا