خطبات محمود (جلد 23) — Page 262
خطبات محمود 262 * 1942 ہے اور جس جان کو بچانے کی انسان کوشش کرتا ہے وہ کسی اور طرح ضائع ہو جاتی ہے۔اب اس وقت دو ہی ذریعے ہیں کہ یا تو ہمارے آدمی جائیں اور دشمن کو سرحد پر ہی روک لیں یادشمن ہمارے گھروں پر آجائے اور وہ یہاں سب کو مار ڈالے۔ان دونوں میں سے کونسا طریق بہتر ہے۔یہ بہتر ہے کہ ہمارے آدمی سرحد پر جائیں اور ان میں سے کچھ مارے جائیں اور باقی دشمن کے حملہ کو روک دیں یا یہ بہتر ہے کہ وہ ہندوستان میں آجائے اور یہاں کے لوگوں کو آکر ہلاک کرنا شروع کر دے۔حضرت خلیفہ اول کا یہ واقعہ نہایت ہی دردناک اور عبرت آموز ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ جب روس اور ترکی کی لڑائی ہوئی تو میرے دل میں مسلمانوں کی خدمت کا جوش پیدا ہوا۔ہم اس وقت پانچ بھائی تھے اور پانچوں نوجوان تھے۔میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو پانچ بیٹے دیئے ہیں۔آپ اپنا ایک بیٹا اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دیں اور مجھے اجازت دیں کہ میں ترکوں کے علاقہ میں جا کر فوج میں بھرتی ہو جاؤں اور روسیوں سے لڑوں۔فرمایا کرتے تھے کہ میری والدہ نے اس بات کے جواب میں ایک بڑی آہ بھری اور کہا پانچ بیٹے ہوں یا سات کیا کوئی ماں اپنے ہاتھ سے بھی اپنا بچہ قربان کرنے کے لئے تیار ہو سکتی ہے؟ میں نے کہا۔اتاں! اللہ میاں کا حکم ہے کہ ماں باپ کی اطاعت کرو۔اس لئے میں جاتا تو نہیں مگر مجھے ڈر ہے کہ آپ کے اس فعل کے نتیجہ میں آپ کے بیٹے آپ کی آنکھوں کے سامنے وفات پا جائیں گے۔چنانچہ آپ فرمایا کرتے تھے ابھی ہماری ماں زندہ ہی تھیں کہ میرے چاروں نوجوان بھائی وفات پاگئے۔جب میرا چو تھا بھائی فوت ہوا تو میں اپنی ماں کے پاس گیا۔میں نے دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں۔مجھے دیکھ کر وہ بے قراری کے ساتھ مجھ سے چمٹ گئیں اور کہنے لگیں وہ ماں کیوں نہ روئے جس کے چار نوجوان بیٹے اس کی آنکھوں کے سامنے وفات پا گئے۔میں نے کہا ماں ! آپ نے اب بھی بے صبری سے کام لیا ہے۔اس لئے میں ڈر تاہوں کہ جب آپ مریں گی تو اس وقت میں بھی موجود نہیں ہوں گا۔چنانچہ ہم جموں میں تھے کہ ہماری والدہ بعد میں بیمار ہو کر فوت ہو گئیں۔تو موت اور حیات اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے جو قومیں زندگی اور بیداری رکھتی ہیں وہ موت کو خوشی سے قبول کرتی ہیں اور جو قومیں موت سے۔