خطبات محمود (جلد 23) — Page 261
* 1942 261 خطبات محمود ماں کہے شلغم پکانا ہے، بہن کہے دال پکانی ہے اور بھائی کہے کہ بینگن پکانا ہے۔اب سارے بیٹھے آپس میں لڑ رہے ہیں۔ایک کہتا ہے کہ میں کدو کھاؤں گا، دوسرا کہتا ہے کہ میں شلغم کھاؤں گا، تیسر اکہتا ہے کہ میں دال کھاؤں گا اور چوتھا کہتا ہے کہ میں بینگن کھاؤں گا۔یا یہ صورت ہو گی کہ ہر ایک نے الگ الگ ہنڈیا چڑھائی ہوئی ہو گی۔ایک نے کدو چڑھایا ہوا ہو گا۔ایک نے شلغم چڑھائے ہوئے ہوں گے۔ایک نے دال چڑھائی ہوئی ہو گی۔ایک نے بینگن چڑھائے ہو ئے ہوں گے۔اس طرح گھی الگ ضائع ہو رہا ہو گا۔ایندھن الگ جل رہا ہو گا اور محنت الگ خرچ ہو رہی ہو گی۔تو یہ بھلا عقل کی بات ہے کہ جس کے جی میں جو بات آئے وہ اُسے منوانا شروع کر دے۔اگر اس بات کی اجازت دی جائے تو لڑکے اور لڑکیاں روزانہ ماؤں کو دق کرنا شروع کر دیں۔لڑکے کہیں کدو کیوں نہیں پکایا اور لڑکیاں کہیں بینگن کیوں نہیں پکایا۔ماں صرف ایک ہی بات جانتی ہے کہ جو میرے جی میں آئے گا، پکاؤں گی۔جب میں مر جاؤں گی تو بے شک اپنی مرضی کے مطابق پکا لینا۔اگر روزانہ بخشیں ہوتی رہیں تو وہ کبھی ختم ہی نہ ہوں۔تو ایسے معاملات میں نظام کی پابندی کی عادت ہی قوم کو زندہ رکھتی ہے اور نظام کی پابندی کی عادت بہت حد تک فوج میں پیدا ہو جاتی ہے۔پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ جنگ اس قسم کی ہے کہ اسلام اور احمدیت پر اس کا بڑا بھاری اثر پڑنے والا ہے۔اس لئے اسلام اور احمدیت پر اس جنگ کا جو بھی اثر ہو۔اس کو مٹانے کا ذریعہ یہ ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ زیادہ سے زیادہ فوج میں داخل ہوں تاکہ ان بد اثرات کو مٹا سکیں اور اگر اُن بد اثرات کو نہ مٹا سکیں۔تو کم سے کم وقت پر اپنی جماعت کی حفاظت تو کر سکیں۔اگر آج وہ فوجی فنون نہیں سیکھیں گے تو کل وہ ان برکات کو بھی حاصل نہیں کر سکیں گے جو فاتح قوموں کے لئے مقدر ہوتی ہیں۔میں اس امر کی طرف خصوصیت سے زمیندار دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں۔شروع شروع میں زمینداروں نے جماعتی کاموں میں اچھا حصہ لیا تھا مگر اب سالہا سال سے شہریوں نے جماعت کا کثیر بوجھ اٹھایا ہوا ہے۔پس اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کے لئے ایک ترقی کا راستہ کھولا ہے۔زمیندار دوستوں کو خصوصاً اس ذریعہ سے اپنے ثواب کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ایسے موقع پر جی چرانا خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑ کانے کا موجب بن جاتا